سندھ اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف قرار داد اختیارات سے تجاوز

سندھ اسمبلی میں منظور کی جانیوالی قرارداد میں وزیر اعظم ستے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے مذکورہ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی گئی کثرت رائے سے یہ قرار داد منظور کی گئی قرارداد کی منظوری کے وقت مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ فنکشنل کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں انہوں نے اپنے اثاثوں کے بارے میں غلط بیانی کی سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں غلط دستاویزات پیش کیں اور ٹیکس چوری کا ارتکاب کیا جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوا چنانچہ ایوان کی متفقہ رائے ہے کہ وزیراعظم نواز شریف فوری طور پر استعفے دے دیں۔ مذکورہ قرارداد بلا جواز ہے اور اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس میں بہت سے تضادات موجود ہیں ایک طرف اخلاقی جواز کے تحت وزیر اعظم سے استعفےٰ طلب کیا جاتا ہے دوسری طرف قانونی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اثاثوں کے بارے میں غلط بیانی کی ، غلط دستاویزات دیں اور ٹیکس چوری کا ارتکاب کیا ایک لحظہ کیلئے اگر یہ درست تسلیم کرلیا جائے کہ انہوں نے اثاثوں کے غلط گوشوارے پیش کئے غلط دستاویزات دیں اور ٹیکس چوری کا ارتکاب کیا تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی اسمبلی کے چند ارکان کو فیصلہ کرنے کا حق دیا جاسکتا ہے؟ کسی بھی شخصیت پر لگانے جانے والے الزامات کا فیصلہ قانون کے تحت کرنے کی متعلقہ عدالت ہی محاذ ہے قومی یا صوبائی اسمبلی قانون ساز ادارے میں انہیں قانون کے منافی قرارداد بھی پاس کرنے سے گریز کرنا چاہیے صورتحال کا یہ پہلو بے حد افسوسناک ہے کہ اپوزیشن کی جس جماعت نے وزیر اعظم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی وہ ہی قرارداد منظور کرانے میں پیش پیش ہے جبکہ سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے قانون کی پاسداری کا یہ تقاضا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرلیا جائے فیصلے کا انتظار کرنے کی بجائے وزیر اعظم سے استعفےٰ کا مطالبہ ان شبہات کو جنم دیتا ہے کہ شاید اپوزیشن فیصلے کے حوالے سے بعض تحفظات اور اندیشوں سے دو چار ہے اسمبلیوں کو اس قسم کے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا رحجان افسوسناک ہے قانون ساز اداروں کو قانون سازی اور قانون کی بالادستی پر توجہ دینی چاہیے اور اپنے آپ کو اپنے آئینی اختیارات تک محدود رکھنا چاہیے۔