Get Adobe Flash player

جمہوری تاریخ کا نیا باب، برسر اقتدار خاندان کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ منظر عام پر آگیا لارجز بنچ کے پانچوں ججوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو نہ صرف تاحیات نااہل کیا بلکہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دیا وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مریم نواز کو بھی نااہل قرار دے دیا گیا وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز ، حسن نواز ،صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کے خلاف بھی نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم جاری کیا گیا فیصلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ریفرنس دائر کئے جائیں اور احتساب عدالت چھ ماہ میں ریفرنس پر فیصلہ کرے سپریم کورٹ نے نیب کو چھ ہفتے میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی دیا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم لارجز بنچ نے وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلیت اور ان کے خلاف مقدمے کے حوالے سے متفقہ فیصلہ سنایا ہے بنچ کے دو ارکان جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نواز شریف کو پہلے ہی نااہل قرار دے چکے ہیں اپنے فیصلے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں جبکہ دیگر تین ججوں نے جمعہ کے روز اپنے فیصلے میں وزیر اعظم کو نااہل قرار دے دیا سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں الیکشن کمیشن کو فوراً وزیر اعظم کی نااہلی کا نوٹیفکیش جاری کرنے کیلئے کہا ہے جبکہ صدر مملکت کو بھی وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے اقدام کرنے کیلئے کہا ہے اٹارنی جنرل کے مطابق اقامہ کی موجودگی وزیر اعظم کی نااہلی کا سبب بنی ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا قانون نہیں ہے تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی فیصلہ سنایا ہے یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم کے پورے خاندان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اسے نااہل قرار دے کر اس کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ملک کے مفاد کا یہ تقاضا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اسکی اتحادی جماعتیں محولہ فیصلے کو قبول کریں اور کسی قسم کے اشتعال انگیز رویے سے گریز کریں جبکہ اپوزیشن کی جو جماعتیں اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کررہی ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کررہی ہیں انہیں بھی اپنے جشن کے ذریعے بد امنی اور انتشار نہیں پیدا کرنا چاہیے۔جمہوری تسلسل اور امن عوام اور مملکت کے مفاد میں ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ صدر مملکت کسی تاخیر کے بغیر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کریں جو نئے قائد ایوان کا انتخاب کرے مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے کم سے کم وقت میں قائد ایوان کے لئے متفقہ امیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ ہوجانا چاہیے جمہوری تسلسل کے لئے ضروری ہے کہ مطلوبہ فیصلے اور اقدامات جلد از جلد کئے جائیں۔وزیر اعظم کی نااہلی کے ساتھ ہی ان کی پوری کابینہ تحلیل ہوچکی ہے اب نئے منتخب قائد ایوان کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد کابینہ کی تشکیل کرنی ہے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کیلئے سب سے بڑا دھچکا یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی نااہلی کی وجہ سے وہ وزیر خزانہ سے محروم ہوچکی ہے چنانچہ اسے اپنی صفوں میں نئے وزیر خزانہ کو تلاش کرنا ہے اب جبکہ نئے وزیر اعظم اور نئی کابینہ کے مراحل طے ہونے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ وزیر خارجہ کا تقرر بھی کردیا جائے وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی پر بھاری ذمہ داری آپڑی ہے اس کی مستقبل کی کامیابیوں اور بہتر سیاسی مستقبل کا دارو مدار اس کے اتحاد اور اسکی کارکردگی پر ہے ہمیں یقین ہے کہ اگر اس نے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اتحادی جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلی تو یقیناً اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ پانامہ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلے نے برسر اقتدار خاندان کا احتساب کرکے ایک زبردست مثال قائم کی ہے یہ مثال اس وقت قوم کیلئے بامعانی اور نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے جب اسکی روشنی میں احتساب کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے لیکن اگر احتساب  اور قانون کی بالادستی کے عمل کو آگے نہیں بڑھایا جاتا تو ہمیں خدشہ ہے کہ انصاف کے اس تاریخ ساز عمل پر بھی انگلیاں اٹھنی شروع ہوجائیں گی۔