Get Adobe Flash player

عدلیہ کی طرف سے ملتان زیادتی کیس کا از خود نوٹس

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی ملتان زیادتی کیس کا ازخود نوٹس لیا ہے ملتان کے علاقے مظفر آباد میں مبینہ طور پر پنچائیت کی جانب سے ریپ کرنے کا حکم جاری کرنے کی خبر میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنے کے بعد چیف جسٹس نثار نے نوٹس لیا اور آئی جی پنجاب سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی یہ امر قابل ذکر ہے کہ خاندان کے دو گروہوں کے افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں نے کچھ روز قبل بارہ سے چودہ سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقع میں آپس میں فیصلہ کیا کہ ملوث ملزم کے خاندان کی کسی لڑکی کے ساتھ بھی اسی  طرح انتقامی جنسی زیادتی کی جائے محمد امین نامی شخص نے اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم عمر وڈا کی سترہ سالہ چچا زاد بہن کے ساتھ بدلے کے طور پر جنسی زیادتی کی اس کے بعد دونوں فریقوں میں صلح ہوگئی بعد ازاں ویمن پولیس اسٹیشن ملتان میں درج ایک درخواست کے ذریعے معاملہ سامنے آیا ملتان پولیس کے مطابق یہ روایتی پنچائیت نہ تھی بلکہ ایک ہی خاندان کے لوگوں نے آپس میں ہی تمام معاملات طے کر لئے تھے پولیس کا کہنا ہے کہ سترہ سالہ لڑکی کو انتقامی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد دونوں فریقوں میں صلح ہوگئی دوران تفتیش متعلقہ افراد نے پولیس کو صلح نامہ دکھایا پولیس نے واقعہ میں ملوث بیس افراد کو گرفتار کیا تھا اب اس نے مرکزی ملمان سمیت مزید چار افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے گرفتار ہونے والوں میں مرکزی ملزم اشفاق کا والد اور عمر وڈا بھی شامل ہیں وزیر اعظم پنجاب میاں شہباز شریف نے ملتان کے تھانہ مظفر آباد کی حدود میں زیادتی کا نشانہ بننے والی یتیم لڑکی اور اس کے اہل خانہ سے ملاقات کی انہوں نے دونوں لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ کی داد رسی کی اور انہیں انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرانی وزیر اعلیٰ نے پی او ملتان کو عہدے سے ہٹا کر اور ایس ڈی بنانے کا حکم دیا جبکہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ ایو سمیت تھانہ مظفر آباد کے پورے عملہ کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ پہلا واقعہ  16جولائی کو اور دوسرا انتقامی واقعہ سترہ اوور اٹھارہ جولائی کی رات کو دو بجے ہوا اگر پہلے واقعہ کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کی ہوتی تو دوسرا واقعہ نہ ہوتا دونوں واقعات کی ایف آئی آر آٹھ دنوں بعد درج ہوئیں ظلم و بربریت کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ ایک جرم کے انتقام کے طور پر اس جیسے ہی دوسرے جرم کا ارتکاب کیا گیا اور اس کے نتیجے میں فریقین میں صلح نامہ طے پایا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کا درست فیصلہ کیا تاہم یہ ضروری ہے کہ ملوث افراد کو کم سے کم وقت میں کیفر کردار کو پہنچایا جائے۔