مسلم لیگ (ن) کو خاندانی نہیں جمہوری پارٹی بنایا جائے

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی نااہلی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے  جس کے بعد این اے 120سے ان کی رکنیت ختم ہوگئی ہے وزیراعظم کی حیثیت سے نواز شریف کی نااہلی کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی ہے  جبکہ نواز شریف نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پنجاب ہائوس منتقل ہوگئے اس سے قبل انہوں نے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی ایک اطلاع کے مطابق یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ 45روز کے لئے شاہد خاقان عباسی یا سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو عبوری وزیراعظم بنایا جائے گا اس کے بعد میاں شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب کرایا جائے گا میاں شہباز شریف پنجاب اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کے بعد قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد انہیں قائد ایوان نامزد کیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں وزیراعظم کے منصب پر منتخب کرایا جائے گا۔ اگر یہ اطلاع درست ہے اور مسلم لیگ (ن) و شریف فیملی نے واقعی بحیثیت وزیراعظم میاں شہباز شریف کو لانے کا فیصلہ کیا ہے تو ہم سمجھتے ہیں اس سے زیادہ غلط فیصلہ کوئی نہیں ہوگا اس سے ملک بھر میں یہی پیغام جائے گا کہ مسلم لیگ (ن) ایک جمہوری نہیں شریف فیملی کی خاندانی پارٹی ہے جس میں کلیدی عہدوں پر صرف خاندان ہی کے افراد کا حق ہے حزب اختلاف اس تاثر کو عوام میں مزید گہرا کرنے کی کوشش کرے گی بعض قانونی حلقوں کی طرف سے ان خدشات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے شہباز شریف حدیبیہ ملز کے معاملات میں زیر عتبا آسکتے ہیں اور ان کے خلاف ریفرنس دائر ہوسکتا ہے اس لئے مسلم لیگ (ن) کو انہیں وزیراعظم لانے کا رسک نہیں لینا چاہیے اس امر کے امکانات  بھی موجود ہیں کہ تحریک انصاف برسراقتدار  جماعت کو مزید دبائو میں لانے کے لئے شہباز شریف کے خلاف بھی قانونی جنگ شروع کر دے۔اس تناظر میں ہم یہ تجویز پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ جمہوری اصولوں اور روایات کے تحت پارٹی کے کسی باصلاحیت فرد یا قومی اسمبلی کے اسپیکر کو متبادل  قائد ایوان کی حیثیت سے نامزد کیا جائے خاندان سے باہر کی شخصیت  کو نامزد کرنے سے پارٹی کا  قیادت پر مزید اعتماد مضبوط ہوگا۔یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے اور اس پر تبدریج عملدرآمد کی جانب بڑھ رہی ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک لمحہ کی بھی تاخیر کے بغیر وزیراعظم ہائوس خالی کر دیا ان کی صدارت میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں بھی پارٹی لیڈروں کے رویے میں کسی قسم کی اشتعالی کیفیت موجود نہ تھی ہماری دانست میں سابق وزیراعظم اور ان کی پارٹی اس مثبت رویے پر تحسین کے مستحق ہیں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے بعد صدر مملکت سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی جائے گی جس میں نامزد متبادل قائد ایوان کو منتخب کرایا جائے گا۔ ہم نے ان ہی کالموں میں اس سے قبل یہ مصروضات پیش کی تھیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) متحد ہی تو آسانی سے اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اس کے لئے یقینا یہ اطمینان کی بات ہے کہ اس کے اتحادی بدستور اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی تحفظات ظاہر کئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف کرپشن'  کمیشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی مقدمہ بنایا گیا نہ ثابت ہوا انہیں محض اس بناء پر نااہل کیا گیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطحی پر اس فیصلے کو تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے گا۔بہت سے امور ابھی تک مبہم ہیں یہ واضح نہیں ہے کہ نااہلی کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم کیا پارٹی کی قیادت کر سکتے ہیں یا  نہیں؟ قانونی ماہرین کے ایک گروہ کا موقف ہے کہ وہ صرف پارلیمنٹ کے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے اس کے علاوہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ان پر کوئی قدغن نہیں ہے جبکہ اس کے برعکس دوسرا موقف یہ ہے کہ نااہلی کے بعد وہ پارٹی کی قیادت نہیں کرسکتے  ان امور پر حقیقی قانونی پوزیشن واضح ہونی چاہیے نواز شریف اور اسحاق ڈار کی نااہلیت  کے بعد اب اپوزیشن کو دبائو اور الزام تراشی کی جارحانہ سیاست ترک کرکے سیاسی ماحول کو بہتر اور خوشگوار بنانے  کے لئے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اب اشتعال انگیزی کی سیاست کا کوئی جواز نہیں ہے۔