Get Adobe Flash player

پاک افغان تعلقات میں کشیدگی' امن کوششوں کے لئے نقصان دہ

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں باہمی سیاسی مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا خطے میں پائیدار امن حاصل کرنے کا یہی واحد ذریعہ ہے ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے متاثرہ افغانستان کا امن فوجی حل سے ممکن نہیں ہے ادھر امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ فوجی آپشن افغانستان کے لئے مجموعی حکمت عملی کا حصہ ہے حکمت عملی کی مرکزیت یہ ہے کہ فریقین کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس نقطے پر پہنچتا ہے جہاں طالبان کی شمولیت کی ضرورت محسوس ہوگی تو ایسے میں درست سمت میں فیصلہ کیا جائے گا تب تک افغان شراکت داروں کی مدد جاری رہے گی۔ افغانستان کے بارے  میں  ٹرمپ حکومت ابھی تک واضح پالیسی طے نہیں کر سکی اگرچہ یہ کہا جارہا ہے کہ پانچ ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن قائم  کیا جائے اور اس امن کے لئے پاکستان کو اہم کردار ادا کرنا ہے بہرحال ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ ابہام کا شکار ہے البتہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ جلد ہی افغانستان کے حوالے سے ایک جامع پالیسی بنائی جائے گی۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس کا  یہ دیرینہ اور اصولی موقف ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال سے افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے افغان طالبان سے مکالمہ لازمی ہے اور امریکہ کو بھی اپنے رویوں اور موقف میں لچک پیدا کرنی ہوگی دوسری طرف یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ موجوہ افغان حکومت اس حد تک بھارتی لابی کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے کہ اس کی طرف سے پاکستان پر اسی قسم کے الزامات لگائے جارہے ہیں جو اکثر نئی دہلی کی طرف سے لگائے جاتے ہیں چنانچہ اس کے بے بنیاد الزامات اور منفی رویے سے دوطرفہ تعلقات میں قدرے کشیدگی موجود ہے جب تک افغان حکومت بھارتی سحر سے نہیں نکلتی اس وقت تک کشیدگی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا' افغانستان کے امن عمل کے لئے کوششیں  شروع کرنے سے پہلے ماحول سے کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے ایک سازگار ماحول میں ہی پاکستانی اپنے حصے کا کردار ادا کر سکتا ہے تاہم اس حقیقت سے کسی طور پہلوتہی نہیں کی جانی چاہیے کہ طاقت کے استعمال سے افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور نیٹو فورسز نے اس کا تجربہ کرکے دیکھ لیا ہے۔