Get Adobe Flash player

سابق وزیراعظم پر بدعنوانی کے الزامات ثابت نہ ہوسکے!

سپریم کورٹ کے فیصلے کی سیاسی حلقوں میں قبولیت یقینا خوش ائند اور اطمینان بخش ہے تاہم مذکورہ فیصلے کے تناظر میں قومی سطح پر یہ سوال اٹھتے ہیں کہ کیا اس کے نتیجے میں احتساب کا مضبوط نظام قائم ہو جائے گا؟ کیا اس کے نتیجے میں پاکستان سے جانے والی دولت بیرون ملک سے واپس آسکے گی اور اس فیصلے سے ہمارے معاشرے پر کس حد تک مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ سوالات اس لئے بھی پیدا ہوئے ہیں کہ پانامہ پیپرز کا معاملہ اٹھانے کے بعد اپوزیشن کی ایک جماعت تحریک انصاف کی طرف سے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد پر کرپشن کے شدید الزامات لگائے گئے تھے اور یہ تاثر دیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم اور ان کی قریبی شخصیات نے ملک میں لوٹ کھسوٹ مچا رکھی ہے ملک سے دولت باہر لے گئے ہیں جہاں انہوں نے اور ان کے صاحبزادوں نے کارخانے قائم کئے ہیں چنانچہ ان کا احتساب ہونا چاہیے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جانی چاہیے پانامہ میں آف شور کمپنی کے حوالے سے تحقیقات کے مطالبے نے وسعت اختیار کرکے سابق وزیراعظم پر کرپشن کے الزامات اور تحقیقات کا رخ اختیار کرلیا تھا اگرچہ سابق وزیراعظم نواز شریف  کا نام پانامہ میں کمپنیاں رکھنے والوں کی فہرست میں شامل نہ تھا تاہم ان کے صاحبزادوں کی کمپنیوں کی موجودگی کے باعث ان پر دبائو نے شدت اختیار کرلی تھی لیکن جب سابق وزیراعظم کی نااہلیت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا تو قوم یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ان کے خلاف کرپشن ' کمیشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے پس منظر میں فیصلہ نہ تھا بلکہ نااہلی کا جواز یہ تھا کہ اپنے صاحبزادے کی کمپنی میں دس ہزار درہم کی جو تنخواہ انہیں دستاویزات کے مطابق وصول کرنی تھی وہ وصول نہ کی اور اثاثوں کے گوشوارے میں بھی اس تنخواہ کا تذکرہ نہ تھا اس موقع پر یہ بحث بھی اٹھی کہ کیا تنخواہ کا اثاثے قرار دیا جاسکتا ہے؟ چنانچہ  لغات کی کتابوں سے ثابت کیا گیا کہ تنخواہ اثاثے میں شمار ہوتی ہے چنانچہ اس بنیاد پر انہیں غیر صادق اور غیر امین ڈیکلیئر کرکے ان کی نااہلی کا فیصلہ دیا گیا' دوسرے لفظوں میں سابق وزیراعظم اپنے چار سالہ دور حکومت کے حوالے سے اس اعتبار سے  سرخرو ہوئے کہ جے آئی ٹی اور ان کے مخالفین انہیں بدعنوان ثابت نہ کر سکے اس فیصلے کے باعث ملک میں احتساب کا نظام کیونکر مضبوط ہوگیا اور بدعنوانی کو کیسے لگام ہوگی ان سوالوں کے جواب  شاید کوئی نہ دے سکے اس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ بدعنوانی کے خاتمے یا معاشرے کی اصلاح کا نہ تھا بلکہ محض ایک کلیدی شخصیت کو اقتدار سے باہر آنے کا تھا اگر ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ مقصود ہوتا تو جے آئی ٹی کی تحقیقات کا رخ اس سمت  بھی موڑا جاسکتا تھا۔ قوم کو اس وقت شدید جھٹکا محسوس ہوگا جب وہ اس امر کا تجربہ اور مشاہدہ کرے گی کہ اپوزیشن  نے اس کیس کے حوالے سے جو دعوے کئے تھے سارے بے معانی ثابت ہوئے سوائے ایک مقصد کے جو بہت عرصہ پہلے سے اس کے پیش نظر تھا  وہ نواز شریف کو اقتدار سے باہر کرنا تھا۔ قوم چاہتی ہے کہ ملک میں ہر سطح سے بدعنوانی کا  خاتمہ ہو جس طرح دہشت گردی خوشحالی کی دشمن ہے اس طرح بدعنوانی بھی اس کی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے لیکن یہ فیصلہ جسے تاریخ ساز قرار دیا جاتا ہے اگر بدعنوانی کے خاتمے کے لئے راستے نہیں کھولتا اور قوام کو اس سے نجات نہیں دلواتا تو شاید اسے قوم کے لئے تاریخ ساز  نہ قرار دیا جاسکے البتہ جن کا ہدف نواز شریف یا شریف فیملی تھا۔ ان کے لئے بہرصورت تاریخ ساز ہی کہلائے گا قوم کی طرح ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ اس فیصلے کو بدعنوانی کے خلاف بہت سے فیصلوں کا نقطہ آغاز بننا چاہیے اس سلسلے کو آگے بڑھنا چاہیے اور پانامہ فہرست میں شامل دیگر عناصر کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونا چاہیے اس حوالے سے جماعت اسلامی کی جو درخواست پہلے سے موجود ہے اس پر جلد کارروائی شروع ہونی چاہیے۔