امریکی من مانیوں کے تناظر میں اہم طاقتوں کی ذمہ داری

امریکی سینٹ میں روس' ایران اور شمالی کوریا پر نئی پابندیوں کے بل کی منظوری نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دنیا میں امن کے بجائے کشیدگی کے لئے کام کر رہی ہے بل کے حق میں 98جبکہ مخالفت میں دو ووٹ آئے حتمی منظوری کے لئے بل صدر ٹرمپ کو بھجوایا گیا ہے بل میں کہا گیا ہے کہ روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے پیش نظر اس پر پابندیاں سخت کی جائیں گی بل کے مطابق ایسی کمپنیاں جو روس میں توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اس سے مستثنیٰ ہوں گی دوسری طرف سینٹ میں منظور شدہ بل میں ایران  پر دہشت گردی کی حمایت کرنے اور شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل میزائل تجربات کے نتیجے میں ان ممالک پر پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مذکورہ بل کو اس سے قبل ایوان نمائندگان نے بھی اکثریت سے منظور کیا تھا امریکی پابندیوں کے نتیجے میں روس' ایران اور شمالی کوریا کس حد تک متاثر ہوں گے مبصرین اس اعتبار سے انہیں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تاہم جو چیز واضح طور پر محسوس کی جارہی ہے وہ سرد مہری کا رویہ ہے جو بڑھ کر کشیدگی کی شکل اختیار کر رہا ہے امریکہ جو دنیا کی اہم طاقت ہے اسے عالمی امن اور انسانوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا تھا مختلف خطوں میں موجود تنازعات کے حل کی کوششیںکرنی تھیں دنیا سے غربت اور پسماندگی کے خاتمے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا تھا مگر اس کے برعکس اس نے  نئے تنازعے کھڑے کر دئیے' بعض ملکوں میں بالواسطہ اور بعض میں براہ راست مداخلت کرنے لگا' کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا شوشہ چھوڑ کر اس نے عراق میں فوجی کارروائی کی اس کے بعد عراق کو صدام  آمریت سے نجات دلانے کا مشن سنبھال لیا۔ اس سے قبل عراق کو شہ دے کر اس کے ذریعے ایران کے خلاف جارحیت کروائی ایران کا قصور یہ تھا کہ بادشاہت کے خاتمہ کے بعد اس نے اپنی سرزمین سے امریکی مفادات ختم کر دئیے تھے اس کے اس قسم کے ہتھکنڈے جہاں عالمی امن کے لئے مسلسل نقصان دہ ہیں وہاں یہ انسانوں کی تباہی کا باعث بھی ہیں یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اہم طاقتیں بشمول روس اور چین مل بیٹھ کر سیاسی و سفارتی ذرائع سے اس کی من مانیوں کا راستہ روکیں' اقوام متحدہ کے غیر موثرہونے کی وجہ سے اہم طاقتوں پر عالمی امن و استحکام اور ترقی کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتیہے اور انہیں یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔