عبوری وزیراعظم کو بھی اپوزیشن کے دبائو کا سامنا ہوگا

نامزد عبوری وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں اور میڈیا سے ملاقات کے دوران دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ جھوٹے ریفرنسز سے نہیں ڈرتے ان کے تمام اثاثے ڈیکلئیر ہیں اور کوئی بھی اثاثہ مخفی نہیں الزام لگانے والے اپنے گریبانوں میں بھی جھانکیں جو لوگ الزام تراشی کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہیں وہ الزام لگائیں ان کا سامنا کرونگا انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کے ایجنڈے کو ہی لے کر آگے چلیں گے  وزیراعظم کی نااہلی کے عدالتی فیصلے پرہم نے عمل کیا ہے لیکن عوام نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا عالمی سطح پر بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات ہیں نامزد عبوری وزیراعظم نے مزید کہا کہ کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ میرے لیڈر کریں گے میاں نواز شریف میرے لیڈر ہونے کے لئے اہلیت کے تمام تقاضوں اور معیار پر پورا اترتے ہیں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلوں گا میں پارٹی قیادت سے اس اعتماد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس نے مجھ پر کیا ہے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میری دانست میں اقامہ رکھنا کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے۔ یہ رہائشی ویزے کی ایک شکل ہے لیکن ایک خاص صورتحال میں اس کی تشریح مختلف انداز سے کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے جمہوریت کے استحکام اور تسلسل کے  لئے اہم فیصلہ کیا ہے سیاستدانوں کا مثبت طرز عمل اور جمہوری سوچ ہی ہوتی ہے کہ وہ ماضی کو نظرانداز کرکے مستقبل پر نظر رکھتے ہیں ہم وہ کریں گے جو ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے بہتر سمجھتے ہیں ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ عالمی سازشوں کو ملک سے نکالنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ نامزد عبوری وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک باصلاحیت اور دیانتدار شخصیت ہیں مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے میاں نواز شریف کے بعد ان کی پارٹی سے ہر لیڈر پر شدید الزامات عائد کرنے ہیں اور سیاسی ماہول کو مکدر کرنا ہے شاہد خاقان عباسی کے خلاف پروپیگنڈہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جبکہ ان کی طرف سے میاں شہباز شریف کے خلاف بھی الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے اس تمام تر پروپیگنڈے کا مقصد یہ ہے کہ انتخابات تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو چین سے نہ رہنے دیا جائے اور اس پر مسلسل دبائو ڈالا جائے ہم سمجھتے ہیں تحریک انصاف کا یہ رویہ سراسر منفی ہے اسے اب الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی اپنی مخصوص منفی سیاست کو چھوڑ کر سیاسی فضا کو خوشگوار بنانے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اب سیاست پارلیمنٹ کے اندر ہونی چاہیے اور اسے فعال کیا جانا چاہیے اسے انتخابی اصلاحات سمیت بہت سے دیگر معاملات میں قانون سازی کرنی ہے اس لئے اپوزیشن اور حکومت دونوں کو تمام تر توجہ اس طرف مرکوز کرنی چاہیے۔ تحریک انصاف کی من مانی سیاست کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کے چیئرمین نے اپوزیشن کی کسی بھی دوسری جماعت سے مشورہ کئے بغیر راولپنڈی سے رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد کو شاہد خاقان عباسی کے مدمقابل امیدوار نامزد کیا ہے یہی نہیں انہوں نے اتوار کی شب اپنے جلسہ عام میں پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری پر شدید حملے کئے جس کا پیپلزپارٹی کی طرف سے بھی جوابی ردعمل آیا۔ چنانچہ تحریک انصاف کے امیدوار کو دوسری جماعتوں کی حمایت ملنا مشکل ہے نامزد وزیراعظم کے مقابلے میں الیکشن محض جمہوری ایکسرسائز ہے  حالانکہ مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 218ہے جبکہ شاہد خاقان عباسی کو کامیابی کے لئے 172ووٹوں کی ضرورت ہے شاہد خاقان عباسی کی کامیابی یقینی ہے منگل کی ہی وہ صدر مملکت سے منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے حلف لیں گے لیکن انہیں تحریک انصاف کی بے بنیاد الزام تراشی کا اپنے قائد کی طرح سامنا کرنا پڑے گا اس لئے انہیں تحمل اور تدبیر کے ساتھ امور مملکت سرانجام دینے ہوں گے۔