خیبرپختونخواہ کے حکومتی اتحاد سے قومی وطن پارٹی کی علیحدگی

خیبرپختونخواہ کی برسراقتدار جماعت تحریک انصاف نے آفتاب شیرپائو کی قومی وطن پارٹی کو حکومتی اتحاد سے نکال دیا ہے اس پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے پانامہ کے معاملے پر تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دیا حکومتی ترجمان کے مطابق جس پارٹی نے اس اہم ایشو پر ہمارا ساتھ نہیں دیا محض اقتدار کے لئے اس کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ حکومتی پارٹی کے اس رویے پر قومی وطن پارٹی کا موقف ہے کہ تحریک انصاف نے شراکت اقتدار کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی وطن پارٹی کی سوچ اور نظریہ ہمارے منشور سے مطابقت نہیں رکھتے دونوں کی سوچ اور پالیسیاں الگ الگ ہیں اس لئے پارٹی چیئرمین نے طویل مشاورت کے بعد قومی وطن پارٹی سے راستے جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم اکٹھے نہیں چل سکتے اقتدار ہماری مجبوری نہیں ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے سوچ اور نطریے کے حوالے سے درست کہا ہے یقینا اشتراک عمل کے لئے جماعتوں کے درمیان نظریے اور سوچ کی ہم آہنگی لازمی ہے تاہم یہ سوال غور طلب ہے کہ اگر قومی وطن پارٹی کی سوچ اور اس کا نظریہ تحریک انصاف کے منشور سے مطابقت نہیں رکھتا تھا تو اس کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کیوں کیا گیا اگر اس وقت ہم آہنگی محسوس کی گئی تو اب اچانک فکر ونظر سے عدم مطابقت کیونکر ہوگئی اس لئے سیاسی حلقے اس استدلال کو قبول نہیں کریں گے کہ دونوں جماعتوں کی نظریاتی ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث ان کا اتحاد ٹوٹ گیا' حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں اسے قومی وطن پارٹی کے دس ارکان صوبائی اسمبلی کے تعاون کی ضرورت تھی چنانچہ وزارتوں اور پارلیمانی سیکرٹری کے عہدوں کے ذریعے اس کا تعاون حاصل کیا گیا اب شاید اسے اس کی ضرورت نہیں رہی قومی وطن پارٹی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے بعد اب حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 69رہ گئی ہے جبکہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد44سے بڑھ کر 54ہوگئی ہے 123رکنی ایوان میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد61' جماعت اسلامی کے ارکان سات اور ایک آزاد ممبر بھی ہے جسے حکومتی حمایت حاصل ہے اپوزیشن جماعتوں میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد16ہے جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے ارکان بھی 16اور قومی وطن پارٹی کے دس ہیں ایک آزاد ممبر  بھی اپوزیشن کے بنچوں  پر ہے اگرچہ قومی وطن پارٹی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت کے وجود کو خطرہ نہیں ہے تاہم اس صورتحال میں اپوزیشن مزید مضبوط ہوگی اور قانون سازی کے معاملے میں حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا یہ مشکلات اور بھی بڑھ سکتی ہیں جب تحریک انصاف کے ارکان کی صفوں میں بھی بغاوت کے آثار ہوں سیاسی حلقوں نے قومی وطن پارٹی کو حکومتی اتحاد سے الگ کرنے کے تحریک انصاف کے فیصلے کو اہم قرار دیا ہے اور یہ استدلال کیا ہے کہ اب جبکہ عام انتخابات سات آٹھ ماہ کے فاصلے پر ہیں تحریک انصاف زیادہ سے زیادہ وزارتیں اور مراعات اپنے ارکان کو دینا چاہتی ہے اس لئے اس نے قومی وطن پارٹی کو حکومتی اتحاد سے الگ کیا ہے۔