Get Adobe Flash player

پاک چین تعلقات کی بنیاد مشترکہ مفاد اور باہمی عزت

چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے 90ویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک چین تعلق باہمی مفاد اور عزت پر قائم ہے دوستی ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی زندگی کے تمام پہلوئوں سے متعلق ہے آرمی چیف نے کہا کہ چین نے مسئلہ کشمیر ، شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت سمیت ہر معاملہ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے پاک افغان تعلقات میں بھی چین نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے پاکستان بین الاقوامی فورسز پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر اس کا احسان مند ہے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک ،دفاعی تعاون ، مشترکہ مصنوبوں سمیت ہر عالمی سفارتی محاذ پر دونوں ممالک اتحادی ہیں نیو کلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت پر بھی پاکستان کو چین کی حمایت حصال رہی آرمی چیف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون انتہائی وسیع ہے جو ماضی میں نہیں تھا سفارتی تعاون سے سکیورٹی تعاون تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں حالات اچھے ہوں یا برے ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج اور پیپلز لبریشن آرمی میں تعاون جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کے حق میں سفارتکاری کی ہے خطے کے اہم ملک ہونے کے باعث باہمی تعلقات نے مشترکہ فائدہ دیا پاک چین دوستی کا زوال ہے انہوں نے کہا آج پاکستان اور چین کو ایک ہی جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے دونوں ممالک نے خطے کے استحکام او خوشحالی کیلئے ذمہ داری اٹھائی ہے چنانچہ یہ بامقصد اتحاد مزید مضبوط ہورہا ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ آرمی چیف نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے یہی درحقیقت پوری قوم کے خیالات اور احساسات ہیں پاکستان برسوں امریکہ کا اتحادی رہا ہے اور اس کے عوام نے پاکستان کے معاملے میں امریکی رویوں کا بھی بخوبی تجزیہ اور مشاہدہ کیا ہے اس تناظر میں جب پاکستان کے عوام امریکہ کا چین سے تقابل کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ چین ان کا سچا دوست ہے جو سنجیدگی سے چاہتا ہے کہ پاکستان کے عوام ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار ہوں بدقسمتی سے امریکہ نے ماضی میں پاکستان کو دوست کے بجائے اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا ہے اور پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے ٹھوس مطلوبہ معاونت نہیں کی ماضی میں یہ بھی المیہ تھا کہ پاکستان دفاع مغرب سے وابستہ رہا چنانچہ مشکل کے لمحات میں اسے جب بھی پرزوں یا معاونت کی ضرورت محسوس ہوئی ہے امریکہ سمیت مغربی ممالک نے تعاون نہ کیا پاکستان کا اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی مملکت بننا بھی مغرب کیلئے قابل قبول نہ تھا بڑی دیر کے بعد اس حقیقت کو قبول کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سازشیں بھی شروع ہوگئیں کہ پاکستان کو اس کے ایٹمی اثاثوں سے کیسے محروم کیا جائے اگرچہ اس معاملے میں اب تک مغرب کو منہ کی کھانی پڑی ہے تاہم مسلمانوں کو کمزور اور منتشر دیکھنے کی خواہش کرنے والے مغربی ممالک ہمیشہ مضطرب رہتے ہیں اور اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے مستعد رہتے ہیں۔اس پس منظر میں یہ تبدیلی خوش آئند ہے کہ اب پاکستان کے دفاع کا انحصار امریکہ دیگر مغربی ممالک کا مرہون منت نہیں ہے چین اگرچہ پاکستان کا بہت پرانا دوست ہے لیکن پاکستان کی حکومتوں نے بتدریج اس کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی پاکستان کی توانائی کی ضروریات سے لے کر جدید دفاعی سازوسامان تک ہر معاملہ میں چین نے غیر مشروط تعاون کیا اب معاشی استحکام کیلئے اسکی طرف سے سی پیک ایک غیر معمولی پیش رفت ہے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی قربتیں اگر دونوں کے معاشی مفاد میں ہیں تو یہ قربتیں خطے میں امن و استحکام کا بھی مظہر ہیں شنگھائی تعاون تنظیم کا پلیٹ فارم دراصل خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور معاشی بہتری کے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ ہے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ امریکی سرپرستی میں قائم ہونے والے اتحاد ملکوں کے خلاف سازشوں اور امریکی مفادت کا ذریعہ بنتے ہیں اسکے برعکس چین کی سرپرستی میں جو اتحاد بنتے ہیں ان میں جارحیت اور توسیع پسندی کی سوچ کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ غربت کا خاتمہ اور انسانوں کی معاشی بہتری ان کا مطمئع نظر ہوتی ہے۔