Get Adobe Flash player

اگر ٹھوس ثبوت ہیں تو جاوید ہاشمی عدلیہ سے رجوع کریں

سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے ایک پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے انہیں کہا تھا کہ تصدق جیلانی کے بعد آنے والے جج پارلیمنٹ توڑ دینگے پارلیمنٹ تحلیل ہوگی اور نواز شریف مستعفی ہوجائینگے اس کے بعد ٹیکنو کریٹ کی حکومت بنے گی اور ستمبر میں انتخابات ہوں گے جاوید ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ شیریں مزاری اور عارف علوی نے مجھے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہے آپ عمران کو سمجھائیں جاوید ہاشمی کے مطابق عمران نے یہ بھی کہا تھا کہ نئے انتخابات میں ہماری حکومت آئے گی کیونکہ کوئی مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا انہوں نے کہا کہ عمران خان حلف اٹھا کر بری باتوں کی تردید کریں گوجرانوالہ کے قریب کنٹینر پر پتھرائو ہوا تو عمران خان اور شیخ رشید میز کے نیچے چھپ گئے تھے۔ جاوید ہاشمی تحریک انصاف کے سابق چیئرمین ہیں دھرنے کے دوران عمران خان نے حکومت کے خلاف جو حکمت عملی وضع کررکھی تھی اس سے اختلاف کے باعث انہوں نے پارٹی اور عمران خان سے علیحدگی اختیار کی اس کے بعد انہوں نے کئی بار انکشافات کئے کہ ایمپائر کے انگلی کھڑی کرنے کا انتظار کرکے عمران خان جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے عزائم رکھتے ہیں تھے وغیرہ وغیرہ یہ درست ہے کہ اس دور میں بعض ایسے عوام کی نشاندہی ہوگئی تھی جن کی شہہ پر عمران خان وفاقی حکومت کے خلاف مہم جوئی پر اتر آئے تھے تاہم اب یہ قصہ پارینیہ ہوچکا ہے جبکہ جاوید ہاشمی کے بعض انکشافات کی عمران خان کی طرف سے تردید بھی کی گئی ہے ہم یہ مجھنے سے قاصر ہیں کہ جاوید ہاشمی پرانی باتوں کو بار بار دہرا کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ہم ان کے موقف کی تردید نہیں کرتے وہ عمران خان کے بہت قریب تھے اور یقیناً بہت سے اہم معاملات سے باخبر تھے لیکن زبانی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اگر جاوید ہاشمی کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں جو جمہوری حکومت کے خاتمے اور غیبر منتخب نظام کو لانے سے متعلق عمران خان کی حکمت عملی کو ثابت کرتے ہیں یا ان کے پاس ایسا ٹھوس ریکارڈ موجود ہے جو عمران خان کی مخصوص شخصیات کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کو ظاہر کرتا ہے تو انہیں اس ریکارڈ کے ساتھ عدلیہ سے رجوع کرنا چاہیے لیکن آئے روز پرانی باتوں کو دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔