وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی سے پہلا خطاب

وزارت اعظمیٰ کے الیکشن میں 221ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد نومنتخب شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی سے پہلا خطاب غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا اپنے محولہ خطاب میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سابق وزیراعظم اور اپنے قائد نواز شریف کے جاری تعمیر و ترقی کے مشن کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے انہوں نے کہا کہ نواز شریف پھر وزیراعظم بنیں گے ایک بڑی عدالت عظمیٰ لگے گی وہاں کوئی جے آئی ٹی نہیں ہوگی' نواز شریف نے کبھی کرپشن نہیں کی ہم سب ان کی بیگناہی کے گواہ ہوں گے' انہوں نے کہا کہ میں نے دولت محنت سے کمائی پر الزام کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں قومی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے مسئلہ کو سب نے مل کر حل کرنا ہے پارلیمنٹ کی عزت اور تقدس کو بحال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔ پرتعیش زندگی گزارنے والوں سے ٹیکس لیا جائے گا۔ معیشت کو مضبوط  کیا جائے گا خود کار اسلحہ کے لائسنس منسوخ کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ نواز شریف عوامی وزیراعظم ہیں وہ پھر واپس آئیں گے وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا  اس کی نطیر نہیں ملتی لیکن ہم نے اسے من و عن قبول کیا اور اس پر عمل کیا لیکن پاکستان کے عوام نے اس فیصلے کو رد کر دیا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وزیراعظم ہائوس خالی کر دیا اور چلے گئے انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر نے ہمیں شائستگی سکھائی ہے لیڈر کا حکم ہے کہ  گالی کا جواب بھی شائستگی سے دیا جائے چار دنوں کے اندر ملک میں جمہوری عمل کی بحالی خوش آئند ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ  میں 30سال سے نواز شریف کے ساتھ ہوں اگر کوئی کرپشن کی بات ہوتی تو میں یہاں نہ ہوتا ہم نے اصولوں کی سیاست کی ہے جنہوں نے مفاد کی سیاست کی انہیں 26ووٹ پڑے ہیں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا' معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنایا دس ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی نومبر کے بعد ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا ایل این جی کو لا کر صنعت کو متحرک کیا ملک میں ساٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے اور معاشی ترقی کی گروتھ 5 فیصد ہوگئی ہے جبکہ موٹر ویز بن رہی ہیں ڈیز بن  رہے ہیں اس کے برعکس مشرف حکومت نے آٹھ برسوں میں کچھ نہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جیبیں بھریں مجھے یہ احساس ہے کہ یہ نشست وزیراعظم کی ہے اس پر لیاقت علی خان' ذوالفقار علی بھٹو' محمد خان جونیجو اور بے نظیر بھٹو بیٹھیں نواز شریف آج بھی موجود ہیں انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دی جائے گی ہیلتھ کارڈ سکیم کو وسعت دی جائے گی ریلوے کا نظام جدید بنایا جائے گا کراچی کے لئے نواز شریف کے اعلان کردہ پیکج پر عمل کیا جائے گا میں 45دن میں 45مہینوں کا کام کرونگا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم نواز شریف کے تعمیر و ترقی کے عمل کو جس تیزی کے ساتھ آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں یہ خوش آئند ہے عام خدشات یہ تھے کہ سابق وزیراعظم کی نااہلی کے بعد ان کے شروع کردہ تعمیر و ترقی کے منصوبے ٹھپ ہو کر رہ جائیں گے اور معاشی ترقی کا عمل رک جائے گا۔ اب نئے  وزیراعظم کے فوری انتخاب کے بعد اس حوالے سے تمام خدشات دم توڑ گئے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ سپریم  کورٹ کا فیصلہ  جمعہ 28جولائی  کو آیا اور یکم اگست کو الیکشن کے بعد نومنتخب وزیراعظم نے حلف بھی اٹھا لیا چنانچہ آئین و قانون اور جمہوریت کی بالادستی نے کسی قسم کا خلا پیدا نہ  ہونے دیا نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ کس حد تک درست اور قانون کے مطابق ہے اس کا فیصلہ قانونی ماہرین اور تاریخ کرے گی تاہم سیاسی قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کے سفر کو جاری و ساری رکھیں اور مملکت کے مفاد کو انفرادی و جماعتی مفاد پر ہمیشہ ترجیح دیں۔