سیاسی جماعتوں میں خواتین کے وقار کو تحفظ دیا جائے

تحریک انصاف کی خاتون رہنما عائشہ گلالئی نے جہاں پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے وہاں پارٹی کے سربراہ پر بھی سنگین الزامات عائد کئے ہیں اور یہ کہا ہے کہ پارٹی میں خواتین کے وقار کو تحفظ حاصل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیں گی' پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی عائشہ گلالئی کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر خواتین کو تحفظ اور عزت ملنی چاہیے جبکہ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیر رحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو عائشہ گلالئی کے الزامات کی وضاحت کرنی چاہیے۔دوسری طرف تحریک انصاف کی خاتون رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ پارٹی میں خواتین کو عزت  دی گئی ہے میرٹ پر چیئرمین نے خواتین کو عہدے دئیے ہیں ان کا موقف تھا کہ عائشہ گلالئی ابھی سے آنے والے الیکشن کے لئے پارٹی ٹکٹ کی کمٹمنٹ لینا چاہتی تھیں قبل از وقت کسی سے اس قسم کی کمٹمنٹ نہیں کی جاسکتی ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ جلسے میں انہیں تقریر کا موقع دیا جائے ان کے اس قسم کے مطالبات تھے چنانچہ انہوں نے بے بنیاد الزام تراشی کی یہ امر غور طلب ہے کہ اس سے قبل کراچی کی ایک اہم خاتون رہنما ناز بلوچ نے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کی تھی اور کہا تھا کہ پارٹی میں خواتین کو ان کا مقام نہیں دیا جاتا ان کے جانے کے بعد ان کے بارے میں پارٹی کے بعض لیڈروں کی طرف سے منفی ردعمل کا اظہار کیا گیا جسے عوامی و سیاسی حلقوں میں مجموعی طور پر پسندیدگی کی نگاہ سے  نہیں دیکھا گیا خواتین کارکن ہوں یا مرد کارکن وہ جس بھی پارٹی میں ہوں پارٹی کے لئے وقت دیتے ہیں اپنی صلاحیتیں صرف کرتے ہیں اپنی پارٹی کے مخالفین کے سامنے بیٹھ کر پارٹی کا دفاع کرتے ہیں اور ہر وقت اس کی کامیابی و مقبولیت کے لئے کوشاں رہتے ہیں جبکہ اس کے عوض کارکنوں کو قائدین کی طرف سے محض شاباش ملتی ہے جہاں تک خواتین کارکنوں کا معاملہ ہے ہم جس مشرقی معاشرت میں رہ رہے ہیں اس میں سیاسی سرگرمیوں کے لئے خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا آسان نہیں ہے تاہم متعدد پڑھی لکھی خواتین اپنے خاندانوں کو قائل کرکے سیاسی جماعتوں کا رخ کرتی ہیں اور ان میں کارکن کی حیثیت سے کام کرتی ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف پارٹی کا رکن ان خواتین کا احترام کریں جبکہ تمام قائدین بھی ان کی عزت و وقار کو پیش نظر رکھیں ملک کی ہر سیاسی جماعت میں خواتین کا شعبہ موجود ہے مگر کسی بھی جماعت سے خواتین کی اتنی شکایات سننے میں نہیں آئیں جتنی پی ٹی آئی سے آئی ہیں جلسوں کے موقع پر بھی اکثر اس کے نوجوان کارکنوں کی طرف سے خواتین کے انکلوژر میں داخل ہونے اور ان سے بدتمیزی کی شکایات منظر عام پر آتی ہیں تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کو خواتین کے وقار اور عزت کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں۔