''چیئرمین سینٹ نشاندہی کریں عدلیہ نے کہاں تجاوز کیا''

سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی ملک میں پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کے خواہاں ہیں آئین میں18 ویں ترمیم جس کے نتیجے میں صوبوں کو زیادہ اختیارات حاصل ہوئے اس کی تیاری اور منظوری کے سلسلے میں ان کی کوششیں تاریخ کا حصہ ہیں انہوں نے پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں جن خدشات کا اظہار کیا ہے انہیں کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کوئٹہ میں ایک سیمینار سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ملک اور وفاق خطرناک نہج پر آکھڑے ہوئے ہیں ایسے میں اداروں کے درمیان کھینچا چانی اور ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوششیں بھیانک نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی انہوں نے کہا کہ ہم سینٹ کی طرف سے انتظامیہ' عدلیہ اور دیگر اداروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور آپس میں مل بیٹھیں جب تک 1973ء کے آئین میں مقرر کردہ حدود کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام نہیں کرتے' اس وقت تک غربت' دہشت گردی' انتہاپسندی اور انتشار کی فضا کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا چیئرمین سینٹ نے کہا کہ کسی بھی سویلین کو اسلام آباد اور پنڈی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں انہوں نے کہا کہ یہ بات عیاں ہے کہ  قانونی کی حکمرانی' جمہوریت کی بالادستی اور اداروں کی بہتری کے لئے ہم آگے جانے کی بجائے مزید بستی کی جانب گامزن ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ جمہوری قوتوں نے 58ٹو بی کو ختم کیا تو پارلیمان کو ختم کرنے کا ایک اور طریقہ سامنے آگیا ہے پارلینمٹ سب سے کمزور ترین ادارہ ہے جس کا دل چاہتا ہے اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ انتظامیہ  پارلینمٹ اور عدلیہ پر جبکہ عدلیہ پارلیمنٹ اور انتظامیہ پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے تو تینوں  کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ چیئرمین سینٹ کے اس اصولی موقف سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ عدلیہ' مقننہ اور انتظامیہ کی آئین نے جو حدود مقرر کر رکھی ہیں ان پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے حدود سے تجاوز اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور ملک میں افراتفری کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں قومی ترقی کا سفر متاثر ہوسکتا ہے تاہم ان کا یہ موقف غور طلب ہے کہ 58ٹو بی کے ذریعے جمہوری حکومتوں کو ختم کرنے کا طریقہ ختم ہونے کے بعد پارلیمنٹ کو ختم کرنے کا ایک اور طریقہ سامنے آگیا ہے ۔ اگرچہ انہوں نے دانستہ مبہم بات کی ہے لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی طرف ہے جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نااہل کئے گئے ہیں حالیہ دنوں میں اور کوئی بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو چیئرمین سینٹ یا ان جیسے کسی قانون دان سیاستدان کے لئے تشویش کا باعث بنا ہو اور اس تناظرمیں اداروں کے آئینی حدود میں رہنے کی خواہش اور جذبے نے شدت اختیار کی ہو ان کا کہنا کہ اب پارلیمنٹ  کو ختم کرنے کا ایک اور طریقہ سامنے آگیا ہے  ذہنوں کوعدلیہ کے فیصلے کی طرف ہی متوجہ کرتا ہے لیکن اس فیصلے سے پارلیمنٹ کے وجود کو کیا خطرات لاحق ہوئے یہ بہت اہم سوال ہے ایک وزیراعظم کی نااہلی کے بعد اسی پارٹی کے دوسرے وزیراعظم منتخب ہوگئے اور محض چار دنوں میں جمہوری اور آئینی عمل مکمل کرلیا گیا۔ ماضی میں بھی ایک وزیراعظم توہین عدالت پر سزا پانے کے بعد گھر چلے گئے تھے اور ان ہی کی پارٹی کے دوسرے وزیراعظم نے منتخب ہونے کے بعد ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ تازہ ترین معاملہ میں اگر کہیں عدلیہ نے اپنی حدود سے تجاویز کیا ہے تو چیئرمین سینٹ تمام قانونی ماہرین کی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی نشاندہی کریں محض حدود سے تجاوز اختیار کرنے کی بات مبہم ہے آئین و قانون کی بالادستی کا تقاضا اور مملکت کا مفاد اسی میں ہے کہ اگر عدلیہ نے تجاوز کیا ہے تو اس تجاوز کی نشاندہی کی جائے اور اسے عدلیہ میں چیلنج بھی کیا جائے۔ چیئرمین سینٹ کو اس معاملے میں کھل کر موقف اختیار کرنا چاہیے ہم ان کی سنجیدگی اور نیک نیتی کی قدر کرتے ہیں لیکن عوام کے اذہان میں انہوں نے جو ابہام پیدا کیا ہے اس کی وضاحت بھی ہونی چاہیے۔