کرنل (ر) زاہد حبیب کی بازیابی کیلئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کوششیں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی شہری کرنل (ر) زاہد حبیب کی بازیابی کے لئے بھارتی حکومت سے رابطہ کیا ہے تنظیم کی طرف سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ عالمی قانون کے مطابق کسی بھی دوسرے ملک کے شہری کو دھو کا دہی کے ذریعے اغواء کرنا انسانی حقو ق کی بدترین پامالی ہے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت اپنی دوغلی پالیسی کو چھوڑ کر کرنل (ر) زاہد حبیب کو فوری طور پر رہا کرکے عالمی قانون پر عملدرآمد کرے' تنظیم نے بھارتی حکومت اور وزیر داخلہ سے اپنے رابطوں کے ذریعے زاہد حبیب کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے خط میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لکھا ہے کہ زاہد حبیب کو پاکستان سے نیپال میٹنگ کے لئے بلایا گیا جبکہ اس سے قبل بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ایجنٹوں نے ایک پلان کے ذریعے دو ماہ تک سوشل میڈیا پر ان سے رابطے کئے انہیں نوکری کا جھانسی  دے کر نیپال میں میٹنگ کے لئے کہا گیا نیپال سے ''را'' کے ایجنٹوں نے انہیں اغواء کرکے دہلی پہنچا دیا۔ یہ امر غور طلب ہے کہ نیپال سے کرنل (ر) زاہد حبیب کے اغواء کے فوری بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ انہیں ''را'' نے اغوا کیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پر ایک سو سے زائد جعلی آئی ڈیز بنا رکھی ہیں جنہیں ''را'' کے ایجنٹ آپریٹ کرتے ہیں ان کے ذریعے بااثر شخصیات کو نوکریوں کا جھانسہ دے کر اغواء کیا جاتا ہے معلوم ہوا ہے کہ کرنل (ر) زاہد حبیب کے معاملے پر بھارتی حکومت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل  سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے آئندہ چند روز میں دہلی اور ممبئی میں ملاقاتوں کے بعد توقع کی جاسکتی ہے کہ کرنل(ر) زاہد حبیب کی بازیابی کے لئے کوششیں بار آور ثابت ہوں گی قومی حلقوں کے لئے یہ امر تعجب کا باعث ہے کہ وزارت خارجہ نے بھارت کے ساتھ اس معاملے کو شدومد سے نہیں اٹھایا اوائل میں اگرچہ یہ کہا گیا کہ حکومت پاکستان نیپال حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اطلاعات کے مطابق نیپال سے انہیں دو افراد بھارت سے گئے ہیں لیکن اس کے بعد اس معاملے میںبھارت کے ساتھ شدت اور تسلسل کے ساتھ معاملہ نہیں اٹھایا گیا بہرحال ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے کوششیں قابل ستائش ہیں جن کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔