Get Adobe Flash player

پرویز مشرف آمریت ا جواز تلاش نہ کریں حقائق کو تسلیم کریں

سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف ان چند ریٹائرڈ جرنیلوں میں سے ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فوجی آمریت کی حمایت کرتے ہیں اور اسے ملک کیلئے مفید قرار دیتے ہیں جبکہ عام طور پر آمریت میں شریک اقتدار جرنیل بھی ریٹائرمنٹ کے بعد معذرت خواہاں رویہ اختیار کرتے ہیں اور یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ان کیلئے چیف کے حکم کی خلاف ورزی مشکل تھی اور عوام کی ترقی اور مملکت کے استحکام کیلئے جمہوریت ہی ناگزیر ہے۔جنرل(ر) پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ آمروں نے ملک کو ٹھیک کیا لیکن سویلین حکمرانوں نے اس کا بیڑہ غرق کردیا ہے ملک میں جب بھی مارشل لاء لگائے گئے یہ اس وقت کے حالات کا تقاضا تھا موصوف نے یہ مضحکہ خیز موقف اختیار کیا کہ فوج ملک کو پٹڑی پر لاتی ہے اور سویلین آکر اسے پٹڑی سے اتار دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہو یا آمریت  ، کمیونزم ، سوشلزم ہو یا بادشاہت عوام یا ملک کو اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا عوام کو ملک کی ترقی ، خوشحالی، روزگار اور سکیورٹی چاہیے ایشیاء کے سارے ممالک میں دیکھیں جہاں بھی ترقی ہوئی صرف ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ہوئی ہے پاکستان کو بھی ڈکٹیٹروں نے ٹھیک کیا لیکن ان کے بعد سویلین نے بیڑہ غرق کردیا ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات کرا دئیے آزادی دے دی لیکن خوشحالی نہیں دی تو اس کا کیا فائدہ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان توڑنے میں فوج کا ہاتھ نہیں بھٹو کا قصور تھا کچھ الزام یحییٰ خان پر بھی آتا ہے لیکن ایوب خان کے دس برسوں میں ملک نے ریکارڈ ترقی کی تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جنرل ضیاء کا دور متنازعہ تھا اس دور میں ملک کو مذہبی انتہا پسندی کی طرف دھکیلا گیا البتہ ضیاء الحق نے طالبان اور امریکہ کی سویت یونین کے خلاف جو مدد کی وہ ٹھیک تھا افغان جنگ میں فوج نے پیسے نہیں بنائے لیکن کچھ ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو ہتھیار خرید رہے ہوں افغانستان میں پیسے تقسیم کررہے ہوں ان میں سے ہوسکتا ہے کچھ نے پیسے بنائے ہوں لیکن فوج نے بطور ادارہ پیسے نہیں بنائے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عوام کے مطالبے پر ٹیک اوور کیا تھا  آئین مقدس ہے لیکن آئین سے زیادہ قوم مقدس ہے ہم آئین کو بچاتے ہوئے قوم کو ختم کرنہیں کرسکتے ملک جا رہا ہوں اور میں سوچوں آرٹیکل چھ میں کیا لکھا ہے انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر الزام لگایا کہ ان کی انڈیا پالیسی ٹوٹل سیل آئوٹ پالیسی تھی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی یہ بات درست ہے کہ عوام ترقی ، خوشحالی ، روزگار اور سکیورٹی چاہتے ہیں لیکن آخر یہ سب کچھ کسی نظام کے تحت ہی دیا جاسکتا ہے جمہوریت میں یہ ان کا حق تصور کیا جاتا ہے اور آئین منتخب حکومت کو پابند کرتا ہے کہ ان کے اس حق کو یقینی بنائے اور پھر آزادی انسانی کا فطری حق ہے اظہار خیال کی آزادی ، تحریر دلفریہ کی آزادی اور تنظیم سازی کی آزادی ، جمہوریت ان آزادیوں کو یقینی بناتی ہے جبکہ آمریت چاہے بادشاہت کی شکل میں ہو کمیونزم کی صورت میں یا فوجی آمریت کی صورت میں ان آزادیوں کو سلب کرتی ہے وہاں انصاف بھی وہی ہوتا ہے جو آمر کی خواہشات کے مطابق ہو پرویز مشرف اس حقیقت کو بھی فراموش کرگئے کہ اس جدید دور میں ممالک کمیونزم ، سوشلزم اور آمریت سے جمہوریت کی طرف لوٹ رہے ہیں مگر وہ مسلسل آمریت کے حق میں استدلال پیش کررہے ہیں جس کی کوئی اہمیت نہیں ایوب خان کے دور کو وہ عوامی ترقی کا دور قرار دیتے ہیں مگر ان کے پاس اپنے آٹھ سالہ دور کی کامیابیاں گنوانے کیلئے کچھ نہیں تھا ان کا یہ موقف بھی حقائق کے برعکس ہے انہوں نے عوام کے مطالبے پر ٹیک اوور کیا تھا یہ عوام کون تھے اور انہوں  نے کب اور کس طرح مطالبہ کیا تھا شاید اسکی نشاندہی پرویز مشرف بھی نہیں کرسکیں گے انہیں اپنی غلطی مضحکہ خیز جواز تلاش کرنے کی بجائے اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے اس دور میں انہوں نے شاید غلطی کا ارتکاب کیا تھا اور اس پر وہ عوام و پاک فوج سے معذرت خواہ ہیں۔