ہر معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کو ملوث کرنا درست نہیں

 ملک کے بعض عناصر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے پس منظر میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ تلاش کررہے ہیں اور ان کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے سابق وزیر اعظم نے بعض معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی رائے یا فیصلے سے اختلاف کیا اور من مانی کی جس کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے رخصت ہونا پڑا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کو ملوث کرنے کا رحجان درست نہیں ہے سیاستدانوں کو اس روش سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی کارکردگی و رویوں پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔پاکستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ پانامہ لیکس کا ایشو گزشتہ ڈیڑھ سال سے گرم ہے اور اس میں بہت سے افراد کے نام منظر عام پر آتے پانامہ لیکس کے مطابق جن کی آف شور کمپنیاں موجود تھیں اگرچہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نام پر کوئی کمپنی نہ تھی تاہم ان کے بچوں کے نام پر کمپنیاں موجود تھیں اور یہ صورتحال یقیناً حکومت کی بدترین مخالف جماعت تحریک انصاف و بھرپور ایکشن کی ترغیب دے رہے تھی اسی دوران سابق وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے ایک نجی چینل سے انٹرویو کے دوران نہ صرف اپنی آف شور کمپنی کا اعتراف کیا بلکہ اپنے کاروبار کے حوالے سے یہ جواز پیش کیا کہ انہوں نے بیرون ملک کمایا اور وہیں کاروبار کررہے ہیں ادھر سابق وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کے ایوان میں اپنے خاندانی کاروبار کا مختصراً جائزہ پیش کیا اور کہا کہ وہ اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں اس پس منظر میں تحریک انصاف سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیر اعظم کی پیشکش کا خیر مقدم کیا اور فوری احتساب کا مطالبہ کرنے لگیں احتساب کے مطالبے کے دوران یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ سوائے نیب کے احتساب کا اور کوئی قومی ادارہ موجود نہیں ہے جبکہ نیب کے ذریعے احتساب کی مخالفت کی جارہی تھی تاہم پہلے مرحلے میں سابق وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے افراد کے احتساب کیلئے جے ائی ٹی بنانے کا فیصلہ ہوا حکومت نے اس پر آمادگی ظاہر کی مگر جے آئی ٹی کے ٹی اوآرز بنانے پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوسکا تحریک انصاف نے حکومت پر دبائو بڑھانے کیلئے جلسوں کا سلسلہ شروع کردیا نوبت اسلام آباد کو بند کرنے کے اعلان تک جا پہنچی سپریم کورٹ کی طرف سے جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے نے کشیدگی کا خاتمہ کیا چنانچہ دونوں فریق راضی ہوگئے اس کے بعد ایک معینہ مدت کے اندر سپریکم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی نے تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرکے پیش کی ان تفصیلات کے تذکرے سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کسی بھی سطح پر خفیہ یا اعلانیہ کوئی کردار نہ تھا شروع سے آخر تک سپریم کورٹ نے اپنا منفرد اور فعال کردار ادا کیا عدلیہنے اپنی آزادی اور خود مختاری کا بھرپور استعمال کیا البتہ بعض قانونی حلقوں کے مطابق اس نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے اگر ایسی بات ہے تو یہ قانونی ماہرین اور عدلیہ کا معاملہ ہے مگر اس اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہے۔