Get Adobe Flash player

کیا بھارت کو خطے کے امن سے کوئی سروکار نہیں؟

بھارتی ایوان بالا راجیہ سبھا میں خارجہ پالیسی پر بیان دیتے ہوئے بھارت کی وزیر خارجہ شسماسوراج نے کہا کہ نواز شریف نے برہان وانی کو شہید قرار دے کر تعلقات کو نقصان پہنچایا۔ دسمبر 2015میں باہمی تعلقات نقطہ عروج پر پہنچ چکے تھے۔ جب مودی نے نواز شریف کی خواہش پر ان کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی تھی ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کے لئے دہشت گردی روکنا ہوگی انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ آپ میرے جہنم دن پر خود مجھے مبارکباد دینے کے لئے یہاں آئیں۔ چنانچہ وزیراعظم مودی نے کسی پروگرام کے بغیر پاکستان کا دورہ کیا کیونکہ بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت کا ہمیشہ خواہاں رہا ہے لیکن پھر پٹھانکوٹ کا واقعہ پیش آگیا پاکستان نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی لیکن برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سارا منظر تبدیل ہوگیا پاکستان نے اسے شہید قرار دے دیا انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان بھارت کے خلاف کارروائیاں بند کرے پھر مذاکرات کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے بھارتی وزیر خارجہ نے مضحکہ خیز استدلال پیش کیا کہ برہان وانی کو پاکستان کی طرف سے شہید قرار دینے سے سارا منظر تبدیل ہوگیا آخر وہ ایسا کیوں سوچتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کا موقف نئی دہلی کی خواہشات کے مطابق ہوگا کشمیر کے بارے میں پاکستان کی پالیسی سے بھارت بخوبی واقف ہے اور یہ پالیسی کشمیر پر بھارتی موقف کے یکسر برعکسہے۔ اور درحقیقت یہی کشمیر کا تنازعہ ہے۔ پاکستان کا ایہ اٹل موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے اور استصواب رائے کے ذریعے کشمیری خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں اسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت نے فوج کے بل بوتے پر کشمیر پر اپنا تسلط جما رکھا ہے اور کشمیری عوام اس کے اس تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ ختم کیا جائے سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے برہان وانی کو شہید قرار دینے سے پہلے اپنے مذکورہ موقف میں ترمیم کرلی تھی؟ ہرگز نہیں' اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ برہان وانی کو شہید قرار دینے سے پاکستان کے موقف میں کوئی نئی تبدیلی رونما ہوتی ہے اپنے حقوق کی جدوجہد میں اب تک جتنے بھی کشمیری لیڈر اور عوام مارے گئے پاکستان نے انہیں ہمیشہ شہید قرار دیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی انہیں شہید کا اعزاز دیا گیا ہے بھارت کا یہ موقف کہ جب تک پاکستان اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا اس سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دراصل اس  کی اپنی مذموم کارروائیوں پر پردہ  ڈالنے کی کوشش ہے کیا بھارت  اس سے انکار کر سکتا ہے کہ اس کے وزیراعظم نے اعلانیہ بلوچستان میں مداخلت کی بات کی تھی؟ کیا وہ کل بھوشن یادیو کے وجود اور اس کی بلوچستان سے گرفتاری سے انکار کر سکتا ہے؟ نریندر مودی کے بیان کے بعد ''را'' کے ایک حاضر سروس افسر کو خصوصی ٹاسک دے کر بھیجا گیا تمام شواہد کی موجودگی اور اس کے اعترافی بیان رکوانے کے لئے بھارت نے عالمی عدالت انصاف  سے  رجوع کیا۔ پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے والا بھارت خود پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اس کی طرف سے افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے دہشت گرد گروپوں کو اسلحہ اور سرمایہ کی فراہمی بھی اب راز نہیں رہی پاک بھارت مذاکرات کو مشروط قرار دے کر بھارت  یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ شاید یہ محض پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ درحقیقت مذاکرات نہ صرف دونوں ملکوں  بلکہ پورے خطہ کے مفاد میں ہیں بامعانی مذاکرات کے ذریعے ہی کشمیر سمیت تمام تنازعات کو حل کیاجاسکتا ہے اوراس طرح خطے میں پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔