الزام تراشی کی سیاست اب ختم ہونی چاہیے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ان کی صوبائی حکومت گرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں مسلم لیگ (ن) ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے مگر ہم جواب میں ایسی کوئی پیشکش نہیں کریں گے۔ ہم تحریک انصاف کے چیئرمین سے درخواست کریں گے کہ خدا کے لئے بے بنیاد الزام تراشی اور غلط بیانی کی سیاست کو اب ترک کر دیا جائے ان کے اس انداز سیاست نے ملک کے سیاسی ماحول کو پہلے ہی بہت خراب کر رکھا ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کے عوام بہت باشعور ہیں الیکٹرانک میڈیا کی فراوانی کے باعث ان کی معلومات میں بھی بہت اضافہ ہو رہا ہے چنانچہ وہ کسی قسم کی غلط بیانی کو قبول نہیں کرتے البتہ اس کے اثرات خود غلط بیانی کرنے والے کے لئے نقصان کا باعث ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ چند روز پیشتر تحریک انصاف کے چیئرمین ہی کی ہدایت پر قومی وطن پارٹی کو جو صوبے میں شریک اقتدار تھی اسے حکومتی اتحاد سے نکل جانے کو کہا گیا کسی جماعت کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی ہے کہ اسے کسی جواز کے بغیر حکومتی اتحاد سے باہر نکل جائے تو کہا جائے چنانچہ اس کے دو وزراء اور ایک  شیر نے استعفیٰ دے کر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا صوبائی اسمبلی میں قومی وطن پارٹی کے دس ارکان ہیں گویا حکومتی جماعت دس ارکان کی حمایت سے محروم ہوگئی دوسری طرف جماعت اسلامی نے بھی اپنے بعض مطالبات پیش کر رکھے ہیں اگر صوبائی حکومت نے پورے نہ کئے تو اس کے سات ارکان بھی حکومت سے الگ ہوسکتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے بارہ ارکان پہلے ہی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے مخالف ہیں ہر کوئی اس گروپ کو باغی گروپ کے نام سے موسوم کرتا ہے جب عمران خان کے اپنے گھر کی یہ حالت ہے تو ایسے میں وہ کسی دوسری جماعت پر ارکان کو خریدنے کے الزامات کیسے لگا سکتے ہیں' ان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے حامیوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے  بلکہ اپنی پارٹی کے باغیوں کو بھی ان کی شکایات کا ازالہ کرکے واپس گھر نہیں لاسکے' اگر عمران خان کو وزیراعلیٰ کی طرف سے صورتحال کی حقیقی بریفنگ دی جائے تو ان پر بہت کچھ آشکار ہو جائے گا الزام تراشی کے بجائے انہیں گھر کے معاملات درست کرنے چاہئیں۔