سابق وزیراعظم کا عوامی رابطہ مہم کا فیصلہ

اسلام آباد تاجروں کے وفد سے ملاقات کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سویلین بالادستی کو تسلیم کیا جائے میری حکومت کے خلاف سازش کی گئی ہے آئندہ حکومت میں  آکر اس سازش کو ہمیشہ کے لئے ختم کردوں گا اس سے قبل بھی میری حکومت سازشوں کی نذر ہوئی انہوں نے کہا کہ میں اداروں سے ٹکرائو کا حامی نہیں ہوں لیکن سازش سے پردہ ضرور اٹھائوں گا پانامہ کیس میری حکومت گرانے کے لئے بنایا گیا جبکہ عوام نے پانامہ کیس کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ احتساب کے نام پر استحصال کیا گیا لیکن جھکوں گا نہیں مجھے کرسی کی کوئی خواہش نہیں ہماری تین نسلوں کے احتساب کے باوجود ایک پائی کی خرد برد ثابت نہیںہوسکی ایمانداری کا یہی سرٹیفکیٹ لے کر عوام کے پاس جائونگا مجھے معلوم ہے میرے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے پاکستان میرا ملک ہے مجھے اس کی خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا آئین توڑنے والوں کو سزا کیوں نہیں  دی گئی انہوں نے کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اس لئے فیصلے کو تسلیم کیا جو جرم کیا ہی نہیں اسکی سزا بھی دے دی گئی ایک بیٹے سے ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ نہ لینے پر مجھے نااہل کیا گیا جو میرے لئے بڑے تعجب کی بات ہے جمہوریت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ کارکنوں کے اصرار پر جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ کیا عوام نے مجھ سے ہمیشہ والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نے اپنی گفتگو میں جو اشارے دئیے ہیں وہ ان کے نقطہ نظر کو واضح کرتے ہیں اب تک اپنی دو تین تقریروں میں انہوں نے کہا کہ سویلین بالادستی کو تسلیم کیا جائے گویا ان کے بقول اسٹیبلشمنٹ جمہوری حکومت اور سویلین بالادستی کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے اور یہی وجہ نزاع ہے' سابق وزیراعظم ہی نہیں متعدد سیاسی لیڈر اوردانشور بھی اسی موقف کے حامی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو منتخب جمہوری حکومت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور اداروں کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے نواز شریف اپنے اسی موقف کو لے کر عوامی رابطہ مہم پر جانے کا عزم رکھتے ہیں چنانچہ بدھ کے روز وہ جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور تک کا سفر کریں گے اور راستے میں مختلف مقامات پر خطاب بھی کریں گے عام تاثر یہی ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لئے اور ان کا خطاب سنے کے لئے آئے گی راولپنڈی سے لاہور تک کے اس سفر کے دوران وہ نااہلی کے حوالے سے اپنا موقف بھی عوام کے سامنے پیش کریں گے اور یہ بھی واضح کریں گے کہ بدعنوانی یا کمیشن کے الزامات ثابت کرنے میں ناکامی پر انہیں محض اس بنا پر نااہل کر دیا گیا کہ انہوں نے بیٹے سے تنخواہ کیوں وصول نہیں کی اور اس کا کاغذات نامزدگی کے گوشوارے میں ذکر کیوں نہیں کیا۔ملک میں جمہوریت ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اس کے قائد اور سابق وزیراعظم اگر جلوس کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور جانا چاہتے ہیں تو اس پر کسی کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے مگر تحریک انصاف کے چیئرمین کو شدید اعتراض ہے ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نااہلی کے بعد ملک میں جمہوری نظام کا قلع قمع اور عدالتی نظام تباہ کرنا چاہتے ہیں جلوس کا مقصد نیب اور احتساب عدالت پر دبائو بڑھانا ہے ہمارے نزدیک تحریک انصاف کے اس موقف میں وزن نہیں ہے بڑے صوبے اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی اپنی حکومت ہے کیا کوئی اپنی حکومت اور جمہوری نظام کو ختم کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے عمران خان کو یاد ہونا چاہیے وہ جب طاہرالقادری کے ہمراہ لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے تھے اور دھرنا دیا تھا تو کیا جمہوریت کو مضبوط کرنے چلے تھے کیا کسی ایمپائر کے انتظار سے وہ جمہوریت کو اسحکام دینے کے خواہاں تھے نواز شریف کا جلوس حکومت یا جمہوریت کے لئے خطرہ نہیں ہے انہیں اس سے نہیںگھبرانا چاہیے اگر نواز شریف نے عدلیہ پر دبائو ڈالنا ہوتا تو اس وقت وہ بڑے بڑے جلسے کرتے جب سپریم کورٹ میں پانامہ کیس چل رہا تھا انہیں اس جلوس کا اپنے ماضی کے جلوس اور اپنی سوچ سے تقابل نہیں کرنا چاہیے بلکہ عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔