سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر ضابطہ اخلاق وضع کریں

عائشہ گلالئی کے بعد اب عائشہ احد نامی خاتون کا سیکنڈل سامنے آیا ہے اور تحریک انصاف نے اس سیکنڈل کے حوالے سے حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے مذکورہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس کا حمزہ شہباز سے نکاح ہوا ہے تاہم بتایا گیا ہے کہ 2015ء میں اس کے اس دعوے کو ایک عدالت نے جھوٹ قرار دے کر مقدمہ خارج کر دیا تھا۔ یہ امر غور طلب ہے کہ عائشہ گلالئی کے معاملے میں بہت دنوں تک خاموش رہنے والے تحریک انصاف کے چیئرمین نے اس معاملے پر فوراً اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا  ہے کہ دیکھتے ہیں وزیراعظم اس معاملے میں بھی پارلیمنٹ کی کمیٹی بناتے ہیں یا نہیں بقول ان کے یہ وزیراعظم کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔عائشہ گلالئی کے اسیکنڈل پر پارلیمانی کمیٹی اس لئے بنی تھی کہ عائشہ گلالئی قومی اسمبلی کی رکن ہیں مگر عائشہ احد قومی اسمبلی کی ممبر نہیں ہیں تاہم ان کے اس دعوے کے جھوٹ سچ ہونے کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے اگر واقعی یہ اطلاعات درست ہیں اس سے قبل انہوں نے عدالت سے  رجوع کیا تھا اور عدالت میں اپنے موقف کو ثابت کرنے میں ناکام رہی تھیں تو اس وقت اتنی تاخیر سے دوبارہ معاملے کو اٹھانے  کا کیا مطلب ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عائشہ گلالئی کے سیکنڈل سے  توجہ ہٹانے کے لئے تحریک انصاف نے یہ ایشو کھڑا کیا ہے اور متعلقہ قانون کی حوصلہ افزائی کرکے اسے سامنے لایا گیا ہے خواتین کے حوالے سے الزامات کی سیاست اور انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی روش افسوسناک ہے بدقسمتی سے ہماری سیاست بہت تیزی سے اخلاقیات سے عاری ہوتی جارہی ہے سنجیدہ سیاسی قائدین کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور قومی سیاست سے بے بنیاد الزام تراشی اور خواتین کے ذریعے پروپیگنڈے کی روش کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں جس طرح ماضی میں دو جماعتوں کے درمیان  میثاق جمہوریت طے پایا تھا اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو مل بیٹھ کر سیاسی ضابطہ اخلاق بنانا چاہیے تاکہ قومی سیاست کو تہذیب و شائستگی اور قانونی حدود کے اندر رکھا جائے اور سیاسی ماحول میں کشیدگی اور الزام تراشی کی حوصلہ شکنی کی جائے وزیراعظم کو بھی اس حوالے سے خصوصی کردار ادا کرنا ہوگا چند ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ ابھی سے الزامات کی سیاست کی روک تھام کی جائے اور سیاسی اختلافات کو اخلاقیات کے تابع رکھا  جائے۔