Get Adobe Flash player

جمہوریت کے لئے لازم ہے ادارے حدود سے تجاوز نہ کریں

سابق وزیراعظم نواز شریف نے پیر کے روز پنجاب ہائوس میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ وہ وزارت اعظمیٰ سے بالاتر ہو کر ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ان کے ہرگز ذاتی مقاصد نہیں ہیں انہوں کہا کہ کیا ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر کا احتساب کرے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار میں چار سال کس طرح گزارے میں ہی جانتا ہوں جب ایک ادارہ دوسرے کا احترام نہیں کرے گا تو پاکستان آگے نہیں چلے گا عوام کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے کروڑوں لوگ ووٹ دیں اور بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر پانچ جج نااہل کر دیں یہ مناسب نہیں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گرینڈ ڈائیلاگ ہونا چاہیے بڑے لوگوں نے مشورہ دیا کہ  مجھے جے  آئی ٹی کے سامنے نہیں جانا چاہیے تھا مگر میں نے اس لئے قانون کی پاسداری کی کیونکہ میں حالات کی خرابی نہیں بلکہ تصحیح چاہتا ہوں نواز شریف نے کہا کہ میں نے قومی خزانے کی امانت میں خیانت نہیں کی میرے لئے یہ کنٹری بیوشن بہت بڑی اور قابل فخرہے تاہم اب روزمرہ کے تماشے کو ختم ہونا چواہیے انہوں نے کہا کہ عدالت نے پہلے درخواست خارج کی پھر معلوم نہیں کیسے قبول کرلی جے آئی ٹی میں مخالفین کو ڈالا گیا ججوں نے بھی اپنی ربزرویشن میں کہا مجھ پر کوئی الزام نہیں دراصل نااہلی کا فیصلہ ہوچکا تھا صرف جواز ڈھونڈا گیا انہوں نے کہا کہ نکالنا  تھا تو کسی ایسی چیز پر نکالتے جس کی سمجھ بھی آتی نیب کے خلاف اپیل کرنا پڑی تو کس کے پاس جائیں گے' سابق وزیراعظم نے کہا مجھے سسلین اور مافیا کہا گیا کیا مافیا جے آئی کی کے سامنے پیش ہوتا ہے؟ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ایک نئے پولیٹیکل اور سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے سیاسی جماعتوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یہ المیہ ہے کہ ملک میں جتنا بھی عرصہ جمہوریت رہی کسی منتخب وزیراعظم کو آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں ملا کسی نہ کسی جواز کے تحت ہر منتخب وزیراعظم کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا نواز شریف کا یہ جملہ بے حد معنویت کا حامل ہے کہ جس طرح انہوں نے چار سال گزارے وہ ہی بہتر جانتے ہیں اور پھر ان کا یہ دعویٰ بھی غور طلب ہے کہ '' فیصلہ پہلے ہوچکا تھا اس کے بعد جواز تلاش کیا گیا'' انہوں نے اس پر بھی زور دیا کہ اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے جب ایک ادارہ دوسرے کا احترام  نہیں کرے گا تو ملک آگے نہیں چلے گا عوام کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے۔ سابق وزیراعظم نے اشارے کنائے میں سارا مضمون سنجیدہ سیاسی حلقوں اور ارباب دانش پر واضح کر دیا ہے ان کی طرف سے جس سازش کا دعویٰ کیا گیا اس کی کڑیاں بھی قابل فہم ہیں تاہم یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ منتخب وزیراعظم ایسے کون سے ''ممنوعہ علاقے'' کی طرف جارہے تھے کہ اس قسم کے انتہائی اقدام کی ضرورت پیش آگئی' وزیراعظم کے بیانات سے صورتحال کا ایک رخ سامنے آرہا ہے دوسرا رخ  بھی واضح ہونا چاہیے ۔ جمہوری استحکام کے لئے یہ ضروری ہے کہ ادارے نہ صرف آئینی حدود میں رہیں بلکہ ایک دوسرے کا احترام بھی کریں اداروں کے اپنی حددو سے تجاوز کی  صورت میں جمہوری نظام اور آئین کی بالادستی کے تصور کو نقصان پہنچتا ہے اگر ہم نے واقعی جمہوریت کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے اور قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے تو ہمیں اداروں کو سختی سے ان کی حدود میںرکھنا ہوگا لیکن اگر اسی طرح وقت گزارنا ہے جس طرح ماضی میں گزارتے رہے ہیں تو پھر اداروں کے حوالے سے آئین کی طے کردہ حدود کو بھول جانا چاہیے جس طرح معاشرے میں طاقتور اور بااثر افراد کا سکہ چلتا ہے اسی طرح طاقتو اداروں کی بالادستی دیگر اداروں کو بھی قبول کرلینی چاہیے ایسے میں لولی لنگڑی جمہوریت پر ہی مطمئن ہو جانا چاہیے اور مغرب کی مثالی جمہوریت کے خواب دیکھنے چھوڑ دینے چاہئیں۔