Get Adobe Flash player

دبئی میں منعقدہ عالمی کشمیر کانفرنس کی سفارشات

دنیا کے مختلف خطوں میں امن کے لئے کام کرنے والے برطانیہ کے ایک غیر سرکاری ادارے کے زیراہتمام دبئی میں تین روزہ کشمیر کانفرنس غیر معمولی سفارشات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ''صلح مذاکرات'' کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس میں آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت اور پاکستان کے اہم رہنما بھی شریک تھے کانفرنس نے اپنی سفارشات میں پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے 2003ء کے معاہدے کا احترام کیا جائے لائن آف کنٹرول کے راستے تجارت اور سفر کے نئے روٹ کھولے جائیں اور جموں وکشمیر میں اعتماد کی بحالی کے اقدامات کو بڑھایا جائے یہ تجویز بھی دی گئی ہے ایل او سی کے آر پار یوتھ ایکسچینج پروگرام شروع کیا جائے کانفرنس نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ مذاکرات کا عمل بحال کیا جائے اور مشکلات کا شکار کشمیریوں کی بحالی اور مدد کا اہتمام کیا جائے میزبان تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو کانفرنس کی سفارشات بھیجیں گے دونوں طرف کی کشمیری قیادت کے درمیان مثبت مکالمہ ایک اہم پیش رفت ہے ' کشمیری لیڈروں نے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا تاہم اس وقت  کا اظہار بھی کیا کہ ایسے اقدامات بھی ہونے چاہئیں جن سے کشمیریوں کو ریلیف ملے۔ دبئی میں منعقدہ کشمیر کانفرنس اس حقیقت کو واضح  کرتی ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے اور وہ  نہ صرف کشمیریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی خواہش کرتی ہے بلکہ چاہتی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوششیں کی جائیں لیکن سارے منظر نامے پر غور کیا جائے اور اس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام متعلقہ امور میں بھارت کا کردار کلیدی ہے مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور طاقت کا  بے دریغ استعمال اسی کی طرف سے ہو رہا ہے اور وہی مذاکرات کی بحالی کے معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے' اس کے سخت رویے کا عالم تو یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم سمیت انسانی حقوق سے متعلق کسی بھی عالمی تنظیم کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اس کا اجازت نہ دینے کا فیصلہ بذات خود یہ واضح کرتا ہے کہ مقبوضہ  کشمیر میں خواتین' بچوں اور نوجوانوں کے خلاف اپنی بربریت کو چھیلنا چاہتا ہے اور  نہیںچاہتا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی سطح پر اس کے غیر انسانی سلوک اور مظالم کو آشکار کریں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مواصلات کے اس جدید دور میں  کیا کوئی ملک کسی خطے میں انسانوں پر اپنے مظالم کو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل کر سکتا ہے ہرگز نہیں' مقبوضہ کشمیر میں اس کے مظالم غیر ملکی میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچ رہے ہیں اور بھارت پر عالمی برادری کا دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے' عالمی این جی اوز کی طرف سے کشمیر کانفرنسوں کا انعقاد اور سفارشات یقینا اہم پیش رفت ہے لیکن بھارت پر سفارشات اور قراردادوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا عالمی تنطیموں کو اس سے بھی آگے کی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی اور کشمیریوں پر مظالم بند کروانے ہوں گے۔