Get Adobe Flash player

قوم جلد اور سستا انصاف چاہتی ہے

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ میں سانحہ 8اگست کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہشت گردی کی سازش کامیاب ہوئی تو اگلی نسلوں کو کچھ نہیں ملے گا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ادارے کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ برسوں کے دوران کمی آئی ہے لیکن ہمیں یہ جاننا ہے کہ دہشت گردی کے اصل محرکات کیا ہیں اور ہمیں کس طرح انتہا پسندی کو جڑ سے ختم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ دشمن نہیں چاہتا کہ علیحدگی کے بعد بھی پاکستان خوشحال اور پرامن ملک ہو سانحہ کوئٹہ ایک واقعہ نہیں پشاور میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو شہید کیا گیا ہم اپنے جانے والوں کو نہیں بھول سکتے یہ ملک قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں کیا گیا  بے شمار لوگ ملک کی تخلیق کے دوران بے گھر اور شہید ہوئے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالتوں کی سیکورٹی فول پروف بنانے کے لئے جامع حکمت عملی اور اسے جدید خطوط پر مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے وزارت داخلہ سے رابطے میں ہیں دہشت گردی ختم کرنے کے لئے بڑے حوصلے سے لڑنا ہے کمزوری نہیں دکھائیں گے عدلیہ سمیت تمام اداروں کو اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بجا طور پر کہا  کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدلیہ سمیت تمام اداروں کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو دہشت گرد پکڑے جائیں انہیں کم سے کم وقت میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور کیفر کردار کو پہنچایا جائے ہم نہایت احترام سے ان کی خدمت میں یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام اس ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر تھا چنانچہ مجبوراً حکومت کو ایک معینہ مدت کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق قانون سازی کرنی پڑی ایک بار دو سال کی مدت ختم ہوئی تو دوسری مرتبہ دو برسوں کی مدت کے لئے ترمیم لانی پڑی  اس عرصے میں درجنوں دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا مقدمات کے دوران انہیں قانونی معاونت سمیت تمام مطلوبہ حقوق دئیے گئے یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاح کی جائے اور اسے قوم کی خواہشات کے مطابق وضع کیا جائے پاکستان کے عوام بھی یہ چاہتے ہیں کہ انصاف کے حصول میں برسہا برس نہ لگیں بلکہ انہیں جلد انصاف فراہم کیا جائے لیکن ہمیں افسوس  سے یہ کہنا پڑتا ہے  کہ گزشتہ تین چار برسوں کے دوران فوری انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی جاسکی ۔ بار ایسوسی ایشنوں کے عہدیداران کے ساتھ مشاورت سے سپریم کورٹ کو ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے جو فیصلوں میں تاخیر کا باعث ہوتی ہیں عدلیہ کے بعض حلقے تاخیر کی ذمہ داری بعض وکلاء پر عائد کرتے ہیں جبکہ وکلاء برادری میں سے بیشتر اس پر  عدلیہ کے ارکان کو دوش دیتے ہیں مقدمات کی بھرمار بھی ایک سبب ہوسکتی ہے بہرحال وجوہات جو بھی سہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو انہیں دور کرنے کے لئے کوششیں کرنی ہوں گی اس طرح دہشت گردی کے خاتمہ کی کوششوں میں بھی عدلیہ احسن طور پر اپنا کردار ادا کرے گی۔ چیف جسٹس میاں نثار جس سنجیدگی اور خلوص سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے تمام اداروں کی فعالیت کے خواہاں ہیں اس کے پیش نظر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں میں تاخیر کی تمام رکاوٹوں کا خاتمہ کرکے قومی خواہشات کی تکمیل کریں گے۔