سابق وزیراعظم محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہ کریں

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لے کر لاہور تک ریلی اس اعتبار سے یقینا کامیاب رہی کہ اس دوران انہوں نے اپنی پارٹی کو ایک بار پھر فعال کر دیا اور عوام کو بھی ان حالات  سے آگاہ کیا جن میں انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنی مختلف تقاریر میں جس جدوجہد کی بات کی اور عوام سے ساتھ دینے کے عہد کئے یہ بات ناقابل فہم ہے ان کے سیاسی مخالفین اس سے یہ تنیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اپنی تقاریر کے ذریعے انہوں نے عوام کو عدلیہ کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے اوروہ ملک میں ابتری پھیلانے کے خواہاں ہیں ہمارے نزدیک ایسی صورتحال نہیں ہے ان کی پارٹی کی مرکز اور پنجاب میں حکومت ہے اور ابتری ان کے  اپنے سیاسی اور حکومتی مفاد میں نہیں ہے ان کی یہی خواہش ہوگی کہ ان کی پارٹی انتخابات تک اقتدار میں رہے اور نہ صرف مرکز بلکہ پنجاب میں اپنی آئینی مدت پوری کرے تاہم ان کی تقاریر نے ان کے سیاسی مخالفین کو ان کے خلاف مزید مواد فراہم کیا ہے جسے وہ توہین عدالت کی درخواستوں سمیت مختلف طریقوں سے استعمال کریں گے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کے عہدے سے اپنی نااہلی کے بعد اسلام آباد سے لاہور تک کے سفر میں انہیں بہرحال خطاب کرنا تھا عوام اور کارکنوں کو اعتماد میں لینا تھا چنانچہ ان کے لئے یہ ثابت کرنا ناگزیر تھا کہ انہیں حکومت سے نکال کر ان کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے اور وہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے چنانچہ انہوں نے یہی کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا لیکن مناسب یہی ہے کہ وہ قانونی جنگ لڑنے کے اپنے عزم پر قائم رہیں اور معاملات کو اس سے آگے نہ لے کر جائیں' جمہوریت اگر مثالی نہ سہی تو بھی خوش آئند ہے کہ ملک ایک بہتر سمت چل پڑا ہے جوں جوں جمہوریت آگے بڑھے گی یہ استحکام حاصل کرتی  جائے گی اور ادارے اپنی اپنی حدود میں رہیں گے' قوم کی بدقسمتی ہے کہ اس کا زیادہ عرصہ مارشل لاء میں گزرا اور عدلیہ نے فوجی آمروں کو ان کی مداخلت پر سند جواز عطا کی چنانچہ ان دونوں اداروں کو ان کے حقیقی کردار پر لانے کے سلسلے میں وقت لگے گا' اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف اس سلوک کے مستحق نہیں تھے لیکن سوائے قانونی راستہ اختیار کرنے کے اور کوئی راستہ نہیں ہے دوسرے راستے ملک اور قوم کے خسارے کی طرف جاتے ہیں اس لئے موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے لئے تحمل سے کام لینا ہوگا یہی نہ صرف اس کے بلکہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے انتخابات تک مزید دورانیہ کو معاسی بہتری اور مزید کامیابیوں کے لئے استعمال میں لایا جانا چاہیے اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) 2018ء کے انتخابات میں مزید کامیابیوں کی توقع کر سکتی ہے لیکن اگر اس کے برعکس محاذ آرائی کے راستے کا انتخاب کیا گیا تو جو کچھ اب تک قوم نے حاصل کیا ہے وہ بھی تلپٹ ہو کر رہ جائے گا' حکومت کو اور خصوصاً سابق وزیراعظم نواز شریف کو اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ پیپلزپارٹی جس کے ساتھ ماضی میں انہوں نے میثاق جمہوریت کیا اور جس سے مکالمے کی صورت بنتی تھی اس نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ ہرگز مکالمہ نہیں کرے گی ایک ایسی صورتحال میں جبکہ کوئی موثر سیاسی جماعت مسلم  لیگ (ن) کی حمایت کے لئے آمادہ نہیں ہے اور اس کے ساتھ مل کر ''جدوجہد'' کے لئے تیار نہیں دانشمندی یہی ہے کہ محاذ آرائی کے بارے میں سوچنے سے بھی گریز کیا جائے ۔ ریلی کے دوران سابق وزیراعظم کا جو بھی لب و لہجہ تھا اب اس سے گریز کرنا چایے ہم سمجھتے ہیں اس تمام دورانیہ میں زیادہ سے زیادہ حکومتی کامیابیوں کے حصول پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے سابق وزیراعظم حکومت سے باہر بیٹھ کر اپنی حکومت کی کارکردگی مانیٹر کریں اور جہاں کہیں کوئی نقص دیکھیں اسے دور کرنے کے لئے حکومت کی رہنمائی کریں وزیراعظم عباسی نے بہتر انداز میں حکومت کا آغاز کیا ہے تاہم حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے سلسلے میں تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جانی چاہئیں سابق وزیراعظم کو جو وقت میسرہے اسے کسی محاذآرائی کے بجائے اپنی پارٹی کی حکومت کو مزید کامیابیوں کے لئے استعمال میں لایا جانا چاہیے۔