افغانستان میں ہندو کلچر اور اثرورسوخ کا فروغ افغان عوام کیلئے چیلنج

وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے پریس بریفنگ کے دوران بھارت اور افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کی مدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے ترجمان نے مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا پہلا مرحلہ2018ء تک مکمل ہونے کا قومی امکان ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں اکثریتی مسلم علاقوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے انہوں نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے ترجمان نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظرثانی کر رہا ہے جب اس حوالے سے کوئی حتمی صورتحال واضح ہوئی تو پاکستان اپنا ررعمل ظاہر کرے گا ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکومت  اور حزب اسلامی کے مابین مذاکرات کا خیر مقدم کیا تھا اور اس موقف کا اظہار بھی کیا تھا کہ طالبان سمیت تمام متحارب گروپوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں ترجمان نے کہا کہ ہم پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی باعزت واپسی چاہتے ہیں ابھی تک کسی مہاجر کو زبردستی  نہیں بھیجا گیا یہ مہاجرین اپنی مرضی سے ایک منظم پروگرام کے تحت واپس جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کو تجویز دی ہے کہ افغان مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں ترجمان  نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اپنے مذموم مقاصد کے لئے افغانستان کی سرزمین اور ان کے میڈیا کو استعمال کرنے کے بارے میں پاکستان نے یہ معاملہ متعدد بار افغانستان  کی سرزمین اور ان کے میڈیا کو استعمال کرنے کے بارے میں پاکستان نے یہ معاملہ متعدد بار افغانستان اور عالمی برادری کے سامنے اٹھایا ہے ہن منتظر ہیں کہ اس پر کیا پیش رفت ہوتی ہے ترجمان کے مطابق 2017ء میں بھارت نے ایل او سی کی 500خلاف ورزیاں کیں جن کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا کی نظریں ہٹانا ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ بھارت اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف  استعمال کر رہا ہے یا افغان میڈیا کو استعمال کر رہا ہے تو اس میں بنیادی قصور افغانستان کی حکومت کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں افغان حکومت اسے اس کے مذموم مقاصد کے حوالے سے سہولت فراہم کر رہی ہے اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے اگر افغان حکومت نہ چاہے تو بھارت سرکار یہ کردار ادا نہیں کر سکتی۔ افغان حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا ملک پاکستان کا ہمسایہ ہے اور  اس ہمسائیگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قائم رہنا ہے دونوں ملک اسلام کے رشتوں میں منسلک ہیں اور یہ بھی ایک تاریخی سچائی ہے کہ ماضی میں پاکستان نے ہر آڑے وقت میں افغانستان کی مدد کی  ہے سوویت جارحیت سے اسے نجات دلانے میں بھی پاکستان کی حکومت اور عوام نے کلیدی کردار ادا کیا ' افغان قوم جو مذہب کے معاملے میں بہت پرجوش ہے کسی صورت افغانستان میں ہندوئوں کا اثرورسوخ قبول نہیں کر سکتی افغان حکومت چونکہ عوام کے جذبات اور خواہشات کی پاسداری نہیں کرتی اس لئے وہ مخصوص مفادات کے لئے تحت بھارت کو اپنی سرزمین کے غلط استعمال کی اجازت دے رہی ہے حزب اسلامی جو افعانستان کی اہم سیاسی جماعت ہے اس کے سربراہ گلبدین حکمت یار کو کابل حکومت کے اس رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔