صدر مملکت کا قومی قیادت کو آئین پر متحد ہونے کا مشورہ

صدر مملکت ممنون حسین نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں پرچم کشائی کے موقع پر اپنے خطاب میں قومی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات ختم کرکے قومی مفاد میں پاکستان کے آئین پر متحد ہو جائیں گلے شکوئوں پر قابو پایا جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں قائدین سے اعتدال اور مفتولیت کی توقع ہے انہوں نے کہا کہ عوام خصوصاً نوجوانوں کی بے چینی پر توجہ دی جائے صدر نے کہا کہ آئین کا تحفظ اور اس کی مکمل پاسداری ملک کے امن' ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قوم کا مزاج بنیادی طور پر جمہوری اور پارلیمانی نوعیت کا ہے جس کا اظہار بارہا جمہوری اور پارلیمانی نظام پر اعتماد کرکے کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے لئے اختلافات بھلا کر ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا حکمران اور قائدین سے قوم کی بہت امیدیں وابستہ ہیں قوم توقع کرتی ہے کہ قائدین گروہی مقاصد سے اوپر اٹھ کر ملک کے مستقبل کی نگہبانی کریں گے صدر نے کہا کہ بعض بزرگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہماری محنت اور جدوجہد رائیگاں گئی جبکہ ہمارے بچے اپنے مستقبل کے بارے میں پریشانی محسوس کرتے ہیں گردوپش کی صورتحال اور گردش ایام کی شواہدہ سری نے ان سوالات میں شدت اور رویوں میں حدت پیدا کر دی ہے صدر مملکت نے کہاکہ جو قومیں مسائل کی شدت سے گھبرا کر مایوسی کے اندھیروں میں پناہ لیتی ہیں سنہرا مستقبل ان سے دور ہو جاتا ہے لیکن جو آزمائش کی بھٹی میں تپ کر کندن بن جاتی ہیں زمانہ ان سے روشنی پاکر اپنی راہ کا تعین کرتا ہے۔ صدر مملکت نے قومی قائدین کو آئین پر متحد ہونے کا جو مشورہ دیا ہے ہماری دانست میں اس سے بہتر مشورہ اور گائیڈ لائین کوئی نہیں ہوسکتی 1973ء کا آئین ایک ایسی دستاویز ہے جو ہمارے اتحاد اور ہماری اجتماعی فکر کی اساس ہے صدر نے  بہت خوبصورت بات کہی کہ ہماری قوم کا مزاج جمہوری اور پارلیمانی نوعیت کا ہے آئین کی تخلیق کرنے والوں نے قوم کے اس مزاج کو پیش نظر رکھ کر پارلیمانی نظام کے خدوخال وضع کئے ہیں چنانچہ آج وطن عزیز میں پارلیمانی جمہوریت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہر فرقے' عقیدے اور زبان سے تعلق رکھنے والوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں قائداعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیا چنانچہ پاکستان معرض وجود میں آیا یہ اتحاد ہی اسے ترقی و خوشحالی اور استحکام سے ہمکنار کر سکتا ہے۔یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ اس میں فرد کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہوتی ہے اس آزادی کو استعمال کرکے ہی وہ اپنی پسند کی جماعت اور امیدوار کو ووٹ دیتا ہے جمہوریت کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ اس میں تحمل سے دوسروں کی بات سننے کا سلیقہ بھی موجود ہے لیکن تحریر اور تقریر دونوں میں تہذیب اور شائستگی پر زور دیاگیا ہے بدقسمتی سے گزشتہ تین برسوں سے ہماری سیاست میں ایک جماعت نے اخلاقیات سے عاری جو اسلوب اختیار کیا ہے قوم اس پر مضطرب ہے تنقید استدلال اور شائستگی سے بھی کی جاسکتی ہے اس کے لئے بازاری لہجے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی اس انداز سیاست کو ختم ہونا چاہیے عوام کا ووٹ پارٹی کے منشور اور قیادت کی ساکھ اوراس کے کردار  پر بنتا ہے یہ بازاری لہجے اور غیر شائستہ تقریروں سے نہیں ملتا جبکہ برسراقتدار جماعتوں کو ان کی عوامی کارکردگی پر ووٹ ملتا ہے جب ووٹوں کے حصول کے راستے یہ ہیں تو پھر باہمی کدورت اور رنجش کا جواز کیا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں  تمام سیاسی جماعتوں کو ایک خوشگوار ماحول کے ساتھ آئے والے انتخابات کی تیاری کرنی چاہیے' صدر مملکت کا اختلافات ختم کرکے آئین پر متحد ہونے کا مشورہ سابق وزیراعظم نواز شریف  کے لئے بھی ہے وہ آئین میں ترمیم کرکے 63,62کی شقوں کو حذف کرنے یا انہیں بہتر بنانے کے خواہاں ہیں یقیا دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کی جاسکتی ہے جبکہ سردمت متعدد جماعتوں نے مجوزہ ترمیم سے اختلاف کیا ہے سابق وزیراعظم کے خلاف فیصلے کے بعد جمہوری تسلسل موجود ہے اور منتخب وزیراعظم ان کی معاشی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں اس تناظر میں کسی بھی محاذ آرائی اور مایوسی کا جواز نہیں ہے۔