پاکستان سے مذاکرات' بھارتی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ

بھارتی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے 31ارکان جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے 13ممبران بھی شامل ہیں بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ امن و امان کی بحالی کی خاطر پاکستان کے ساتھ مذاکرات ناگزیر ہیں ان ارکان نے بھارتی وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کو بہانہ بنا کر بات یت کے عمل کو زیادہ دیر تک یرغمال نہیں بنایا جاسکتا 31ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے دونوں ایوانوں میں تجاویز پیش کی ہیں جن پر آئندہ چند دنوں میں بحث متوقع ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے کے باوجود سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر من موہن سنگھ نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا تھا پارلیمانی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے پر زور دیا اور بے روزگار نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کی تجویز پیش کی۔ کمیٹی نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور وہ سفارتی سطح پر بھی ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں تاکہ مذاکرات کے مخالف عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے پارلیمانی کمیٹی نے مرکزی حکومت کو سفارش کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا مذاکرات پر اثر نہیں پڑنا چاہیے اور یہ شروع ہونے چاہئیں کمیٹی میں شامل ممبران نے وزارت خارجہ کے سیکرٹری اور وزارت دفاع  و داخلہ کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں'  اطلاعات کے مطابق کمیٹی میں شامل اپوزیشن اور بی جے پی کے ارکان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور عسکری  واقعات کو بہانہ بنا کر بات چیت کے عمل کو روکنے سے گریز کیا جانا چاہیے کمیٹی نے کہا ہے کہ  پاکستان کے ساتھ بات چیت لازم ہے اور  اس سلسلے میں حکومت کو سنجیدگی  کا مظاہرہ کرنا چاہیی عالمی برادری کے متعدد ممالک  نے متعدد بار بھارت پر زور دیا  ہے کہ اسے کشمیر سمیت تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں جلد پاکستان سے مذاکرات سے شروع کرنے چاہئیں جبکہ پاکستان نے بھی یہی کہا ہے کہ مسائل حل کرنے کا راستہ محض مذاکرات  ہیں لیکن بھارت نے مذاکرات کو مشروط بنانے کی کوشش کی جس پر پاکستان نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اسے مشروط مذاکرات قبول نہیں' اب بھارتی پارلیمنٹ کے اندر سے مذاکرات  کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگی ہیں جن میں اپوزیشن کے علاوہ برسراقتدار جماعت بی جے پی کے ارکان بھی شامل ہیں مسائل ہوں یا کشیدگی مذاکرات کے ذریعے ہی کشیدگی کا خاتمہ اور مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے حقیقت یہی ہے کہ دونوں ہمسایوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے دانشمندی یہی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کریں اور اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کو تنازعات یرغمال نہ بنائیں جلدیا بدیر اگر مذاکرات نے  ہونا ہی ہے تو وقت کا ضیاع کیوں مگر یہ نئی دہلی کے سوچنے کی بات ہے کہ اب تو بھارتی پارلیمنٹ اور حکومت کے اندر سے مذاکرات کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔