گولیاں چلانے والے نریندر مودی کاکشمیریوں کو گلے لگانے کادعویٰ

بھارتی یوم آزادی  پر مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا' بھارت کا یوم آزادی حقیقی معانوں میں کشمیریوں کے لئے یوم سیاہ کی خبر لے کر آیا تھا بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج گزشتہ تقریباً سات دہائیوں سے کشمیر پر قابض ہے اور بھارت طاقت کے زور پر قبضہ کرکے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے لیکن کشمیریوں کی مسلسل جدوجہد نے دنیا بھر میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کرتے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کرایا جائے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ انہیں کرنے کا حق دیا جائے۔ کشمیریوں کا یوم سیاہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر بھر میں بلکہ آزادکشمیر' پاکستان' فرانس' برطانیہ' ناروے اور کینیڈا میں بھی منایا گیا جہاں جہاں بھی کشمیری موجود ہیں انہوں نے بھارتی تسلط اور بربریت کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں  کشمیری قیادت کو نظربند کر دیا گیا اور مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف شدید کریک ڈائون کیا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں مکمل طور پر ہڑتال کی گئی' شٹر ڈائون رہا اور کاروبار زندگی معطل رہا تمام دکانیں' بازار' کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے ' تعلیمی ادارے بند رہے' ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام رہا جبکہ گھروں  پر سیاہ پرچم لہرائے گئے انتظامیہ نے  مظاہروں اور ریلیوں کو روکنے کے لئے پوری وادی کو چھائونی میں تبدیل کر دیا تھا' انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل رہی' جگہ جگہ سخت ناکہ بندیاں جبکہ بعض علاقوں میں کرفیو بھی نافذ رہا ان سخت اقدامات کے باوجود بیشتر مقامات پر کشمیریوں نے رکاوٹیں توڑ کر مظاہرے کئے اور بھارت کے خلاف نعرہ بازی کی حسب دستور بھارتی فورسز نے اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں کشمیری شدید زخمی ہوگئے۔ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف طاقت استعمال کی جارہی تھی ان کے قائدین نظربند تھے دوسری طرف نئی دہلی کے لال قلعہ میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کہہ رہے تھے کشمیر کا مسئلہ گالی اور گولی سے نہیں بلکہ ہر کسی کو گلے لگانے سے حل ہوگا کشمیر کے سلسلے میں بیان بازی اور جوابی الزام کا سلسلہ بہت چلتا ہے ہر شخص ایک دوسرے کو گالی دینے میں مصروف ہے ۔ مٹھی بھر علیحدگی پسند طرح طرح کے پینترے اختیار کرتے ہیں اس لڑائی کو جیتنے کے لئے میرا ذہن صاف ہے  حکومت کشمیر کو جنت ارض کی حیثیت واپس دلانے کے لئے پرعزم ہے ہمیں کشمیر کے معاملے میں مل کر کام کرنا ہوگا تاہم دہشت گردی اور دہشت گردی کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دہشت گردوں کو ایک بار پھر قومی دھارے میں آنے کی دعوت دیتا ہوں وہ آئیں اور ملک کے جمہوری نظام کے تحت مذاکرات کریں۔ بھارتی وزیراعظم کہتے ہیں کہ ان کا ذہن صاف ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ حقائق سے مسلسل نظریں چرا رہے ہیں مگر نظریں چرانے سے حقائق بدل نہیں جاتے  ماضی کے بھارتی حکمرانوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ایسا ہی کہا لیکن اس کا کیا نتیجہ نکلا کشمیر کا مسئلہ زیادہ سنگین ہوتا جارہا ہے بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے مگر بھارتی وزیراعظم ان آوازوں کو بھی سنی ان سنی کر رہے ہیں اگر ان کے بقول مٹھی پھر علیحدگی پسند گڑ بڑ کر رہے ہیں تو کیا ان مٹھی بھر لوگوں کے لئے سات لاکھ فوج بٹھا رکھی ہے جو مسلسل طاقت کا استعمال کر رہی ہے؟ کیا ان مٹھی بھر لوگوں کی وجہ سے پولنگ اسٹیشن سنسان رہتے ہیں اور کوئی ووٹ ڈالنے نہیں جاتا اور کیا ان چند لوگوں کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر بھر میں کرفیو  کا سا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کشمیری عوام کی جدوجہد ملازمتوں اور اقتدار کے لئے نہیں بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے ہے اس لئے وہ نئی دہلی کے جھانسے میں نہیں آتے' یہ چند لوگ نہیں مقبوضہ کشمیر کے تمام کشمیری ہیں ان کا اصولی موقف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے اور عالمی برادری اس کی حمایت کرتی ہے کشمیریوں کو گلے لگانے کے دعوے میں سراسر منافقت ہے اگر بھارتی قیادت سچی ہے تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا اعلان کرے اور بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر سے واپس بلالے۔