Get Adobe Flash player

ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں طاقت کے ذریعے امن کی خواہاں

امریکہ کی وزارت دفاع سمیت بعض حلقوں میں اس حوالے سے غور کیا جارہا ہے کہ افغانستان میں مزید امریکی فوج بھیجنے کا ارادہ ترک کرکے بلیک واٹر کو بھیجنے کے بارے میں سوچا جائے امریکہ کے ایوانوں میں سنجیدگی سے اس بارے میں سوچا جارہا ہے کہ بلیک واٹر کو کنٹریکٹ دے کر اسے افغان طالبان سے برسرپیکار کر دیا جائے اس طرح امریکی فوج کو مزید نقصان سے بچایا جاسکتا ہے تاہم ان اطلاعات  پر افغانستان میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے اگرچہ افغان حکومت نے معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن سابق صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوج کی جگہ بلیک واٹر کو تعینات کیا گیا تو وہ صدر اشرف غنی کی حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے بلیک واٹر کے آنے سے افغانستان میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے اور ملک کو متحد رکھنا مشکل ہو جائے گا ان کا موقف ہے کہ غالباً امریکہ بھی متحدہ افغانستان کے حق میں نہیں ہے حامد کرزئی نے صدر اشرف غنی کے بارے میں کہا ہے کہ وہ حکومت سنبھالنے کے بعد  امن و امان  کے حوالے سے کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکے اس لئے وہ اقتدار چھوڑ دیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلیک واٹر کے حوالے سے اطلاعات ملنے کے بعد حامد کرزئی نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے شروع کر دئیے ہیں انہوں نے حزب اسلامی کے قائد گلبدین حکمت یار سمیت متعدد قائدین سے رابطہ کیا ہے اور ان سب کو اپنا ہم خیال پایا ہے بعض اطلاعات کے مطابق موجودہ افغان حکومت کے بعض حکام بھی بلیک واٹر کی تعیناتی کے حق میں ہیں اور درپردہ ان کی رائے یہی ہے کہ اسے تعینات ہونا چاہیے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح موجودہ حکومت کو تقویت مل سکے گی اور اس کے اقتدار کو خطرہ لاحق نہیں ہوگا گلبدین حکمت یار بھی بلیک واٹر کے خلاف ہیں جبکہ مزید امریکی فوجی کی تعیناتی کے حامی ہیں۔افغانستان کے سیاسی قائدین کے موڈ سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ بلیک واٹر کی تعیناتی کی صورت میں صدر اشرف غنی کو سیاسی مخالفین کے شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ حکومت سے باہر بھی ہوسکتے ہیں بلیک واٹر  کی ماضی کی بربریت افغان عوام اور سیاسی جماعتوں کو بخوبی یاد ہے سیاسی حلقوں کے لئے یہ امر تعجب کا باعث ہے کہ امریکہ افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے عسکری طاقت کے استعمال یا بلیک واٹر کے استعمال بارے سوچ رہا ہے حالانکہ مسئلہ کے حل کی کلید اس کے پاس ہے وہ افغان طالبان کی مناسب شرائط کو قبول کرکے انہیں مزاحمت ختم کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے مذاکرات کا سلسلہ ایک بار شروع ہو جائے تو کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت کوئی نہ کوئی ایسا راستہ نکل سکتا ہے  جو فریقین کے لئے قابل قبول ہو تاہم اس ضمن میں سنجیدگی اور نیک نیتی ضروری ہے جو سردست ٹرمپ انتظامیہ میں محسوس نہیں ہوتی۔