وزیراعظم فاٹا اصلاحات پر جلد عمل کو یقینی بنائیں

فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان سینٹ نے گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور انہیں منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی وفد نے کہا کہ دہشت گردی نے قبائلی ایجنسیوں میں انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے اور ترقی کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فاٹا میں تبدیلی لازمی ہے اور وہاں جمود کا خاتمہ کرنا ہوگا فاٹا میں تبدیلی حکومت کی ترجیح ہے ہم فاٹا کو دوسرے وفاقی یونٹوں کے مساوی لانا چاہتے ہیں فاٹا کے شہریوں سے تمام سماجی شعبوں میں مساوی سلوک کو یقینی بنانا ہوگا ہماری حکومت نے پہلے ہی اقدامات اٹھائے ہیں شراکت داروں کی مشاورت سے فاٹا کے امور میں قانونی اصلاحات کے ذریعے تعمیری تبدیلی لانا ہماری ترجح ہے وزیراعظم نے یقین دلایا کہ فاٹا میںتعلیم' صحت' انفراسٹرکچر اور سماجی شعبوں کے لئے مزید وسائل مختص کئے  جائیں گے انہوں نے کہا  کہ میں جلد ہی فاٹا کا دورہ کرونگا۔ فاٹا میں بہتری کے حوالے سے فاٹا کے ارکان اور حکومت کی سوچ میں کوئی تضاد نہیں ہے دونوں طرف یہ احساس شدت سے موجود ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ اس علاقے کی تعمیر نو کا عمل جلد شروع ہونا چاہیے اور اسے وفاق کی دیگر اکائیوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں یہ درست ہے کہ پاک فوج نے انفراسٹرکچر کی بہتری اور تباہ حال مارکیٹوں کی تعمیر کے لئے بہت کچھ کیا ہے اس نے متعدد تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو بھی بحال کیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے قبائلی ایجنسیوں میں زیادہ تر روزگار کان کنی کے شعبہ سے وابستہ ہے اس لئے اس شعبہ کو فوری بحال کیا جانا چاہیے اس کے علاوہ بھی کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے تعلیم' صحت اور سماجی شعبوں کے لئے مطلوبہ اقدامات جتنا جلد ہوں گے عوام کی زندگی میں جلد بہتری آئے گی۔ جہاں تک فاٹا اصلاحات کا معاملہ ہے اس میں مزید کسی تاخیر کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے بیشتر جماعتیں اور فاٹا کے عوام اصلاحات کو جلد عمل کے سانچے میں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن حکومت جس نے شروع میں ان پر عمل کے لئے زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا اپنی دو اتحادی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے منفی ردعمل کے باعث اس نے قدم روک لئے تھے ہر دو جماعتیں فاٹا کی خیبرپختونخواہ میں ضم ہونے کی مخالف تھیں ان کی یہ مخالفت یقینا ان کے سیاسی مقاصد کے تابع تھی چنانچہ حکومت نے ان کی ناراضگی کے خدشہ کے پیش نظر مصلحت سے کام لیا اور معاملے کو ایک طرف رکھ دیا ہمارے نزدیک یہ انداز فکر درست نہیں ہے جمہوریت میں اکثریتی رائے اور فیصلوں کا احترام ہوتا ہے اگر سیاسی جماعتوں کی اکثریت اور فاٹا کے عوام کی اکثریت ضم کی حامی ہے تو دو جماعتوں کی مخالفت کوئی اہمیت نہیں رکھتی اصلاحات کے فیصلے پر عمل ہونا چاہیے اس تناظر میں یہ ضروری تھا کہ وزیراعظم  شاہد خاقان عباسی فاٹا کے ارکان سینٹ کو فاٹا اصلاحات پر جلد عمل کے حوالے سے کوئی یقین دہانی ہی کرا دیتے حالانکہ اس معاملے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے فاٹا کے عوام دوسرے درجے کے شہریوں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں انہیں قومی دھارے میں لینے کی اشد ضرورت ہے۔