Get Adobe Flash player

کشمیر میں قابض بھارتی فوجوں کی دہشت گردی پر امریکی خاموشی

کشمیری لیڈر سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد امریکہ نے اب حزب المجاہدین کو بھی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے مذکورہ دونوں امریکی فیصلوں کا تعلق بھارت کی حمایت اور اس کی خوشنودی سے ہے خطے میں امریکہ جس مقصد کے تحت بھارت کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے اس کے ساتھ سول ایٹمی تعاون سمیت دیگر معاہدے کر رہا ہے اسی تناظر میں اس کے یہ فیصلے بھی بہت بامعانی محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے جبکہ کشمیر کے دونوں حصوں میں کشمیریوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک گزشتہ ستر برسوں سے جاری ہے کشمیر کا دیرینہ تنازعہ دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور پائیدار قیام امن کے لئے اس مسئلہ کا حل ضروری ہے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد  ہر اعتبار سے جائز ہے بھارتی قابض فوج نے مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا بے جا استعمال کیا اور اب بھی کر رہی ہے بھارتی قابض فوج  نہ صرف کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے بلکہ پیلٹ گن کے استعمال سے کشمیریوں کی بینائی بھی چھن رہی ہے اس کے مظالم میں زبردست اضافہ ہوا ہے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک' آسیہ اندرابی' مسرت عالم بٹ' شبیر احمد شاہ اور دیگر رہنمائوں کو دوران حراست جان کا خطرہ لاحق ہے انہیںجان بچانے والی ادویات فراہم نہیں کی جارہی ہیں جبکہ شبیر احمد شاہ کو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں انہیں خطرناک لوگوں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں چھ کشمیریوں کو  شہید کیا گیا اور حریت قیادت کو پابند سلاسل رکھا گیا۔ امریکی فیصلے کے تناظر میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ جو کشمیر کو ایک تنازعہ سمجھتا ہے اور کئی بار اس کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش بھی کر چکا ہے یہ بخوبی جانتا ہے  کہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج نے قبضہ جما رکھا ہے اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو طاقت کے ذریعے کچل رہی ہے اس کے باوجود اسکی طرف سے بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مسلسل خاموشی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے حال ہی میں صدر امریکہ نے بھارت کا دورہ کیا مگر اس دوران کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف یا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے حق میں انہوں نے ایک لفظ تک نہ کہا' جس تنازعہ کے حل کے لئے امریکہ ثالثی کی پیشکش تک کر چکا ہے اور جسے حل کرنے کے لئے اس نے متعدد بار دونوں ملکوں کو مذاکرات کا مشورہ بھی دیا ہے اس پر صدر امریکہ کی خاموشی کا سوائے اس کے کچھ مطلب نہیں کہ محض بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی خاطر انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے سلسلے میں اپنے عالمی کردار کو نظرانداز کر دیا' جہاں تک حزب المجاہدین یا سید صلاح الدین کی عسکری سرگرمیوں کا معاملہ ہے انہیں کسی طور دہشت گردی نہیں قرار دیا جاسکتا ان کی جدوجہد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تابعے ہے ستر برسوں سے جو قوم اپنے حقوق کے حصول کے لئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی طرف دیکھ رہی ہے کیا اسکے بعض نوجوانوں کو اس کا بھی حق نہیں  کہ وہ اپنے علاقے پر قابض فوجوں کی جارحیت کا مقابلہ کریں' یہ حصول آزادی کی جدوجہد ہے اب ہرگز دہشت گردی نہیں قرار دیا جاسکتا دہشت گردی تو بھارت اور اس کی قابض فوجوں کی طرف سے کی جارہی ہے کس قانون کے تحت بھارت کی فوج نے وہاں قبضہ جما رکھا ہے یہ بھارت کی سرزمین تو نہیں ہے امریکہ سمیت دنیا کا ایک بھی ملک اسے بھارتی سرزمین تسلیم نہیں کرتا خود بھارتی آئین بھی اسے اپنی سرزمین تسلیم نہیں کرتا اگر ایسا ہوتا تو مقبوضہ کشمیر اس کی ایک ریاست اور صوبہ ہوتا اور وہ وہاں بھارتی شہریوں کو زمین خریدنے کی اجازت ہوتی آج اقوام متحدہ کشمیر پر منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کا آغاز کرے نوجوانوں کی عسکری سرگرمیاں از خود دم توڑ دیں گی مجموعی طور پر کشمیریوں کی تحریک پرامن ہے' نعرے ' مظاہرے' ریلیاں اور شہادتیں اس تحریک کی شناخت ہیں تاہم اگر چند نوجوانوں کی طرف سے بھارتی فورسز کی جارحیت کا جواب دیا جارہاہے تو انہیں ان کے قانونی حق سے نہیں روکا جاسکتا' سیاسی مقاصد کے تابع اس ضمن میں امریکی فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔