Get Adobe Flash player

اے این پی میں ولی گروپ کے انضمام کا فیصلہ

یہ اطلاعات قومی سیاست کے لئے خوش آئند ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی اور اے این پی ولی گروپ کی سربراہ بیگم نسیم ولی خان کے مابین خاندانی تنازعہ و سیاسی اختلافات کے خاتمہ اور دونوں پارٹیوں کے انضمام پر اتفاق ہوگیا ہے دونوں قائدین کی جلد باضابطہ ملاقات ہوگی جس میں بیگم نسیم ولی اپنی پارٹی اے این پی میں ضم کرنے کا اعلان کریں گی البتہ صوبائی صدر فرید طوفان پر اے این پی کے دروازے بند رہیں گے اور وہ پارٹی انضمام کے باوجود اے این پی کا حصہ نہیں بن پائیں گے اطلاعات کے مطابق ولی خاندان کے اختلافات ختم کرانے کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما محمد خان شیرانی بھی جرگہ کر چکے ہیں تاہم اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر ہوتی' ایمل ولی خان' غزن خان اور لونگین ولی خان کی کوششوں سے خاندان کے بڑوں میں صلح کی راہ ہموار ہوئی اے این پی ولی گروپ کی مرکزی اور صوبائی کونسل نے بھی بیگم نسیم ولی کو اے این پی میں انضمام کا اختیار دے دیا ہے دونوں جماعتوں کا انضمام غیر مشروط ہوگا البتہ اے این پی نے فرید طوفان کو دوبارہ شامل کرنے سے انکار کیا ہے۔ بیگم نسیم ولی خان عمر کے اس حصے میں پہنچ چکی ہیں کہ اب وہ کسی سیاسی جماعت کی قائد کی حیثیت سے ذمہ داری نہیں سنبھال سکتیں ۔حالانکہ ماضی میں بیگم صاحبہ ملک کے کونے کونے میں جلسوں سے خطاب کرتی تھیں اورلوگ گھنٹوں ان کے خطاب کا انتظار کرتے تھے فرید طوفان اور بعض دیگر لیڈروں نے انہیں ولی گروپ قائم کرنے کے مشورے دینے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مرحوم خان عبدالولی خان کی بیوہ ہونے کی حیثیت سے نہ صرف اے این پی سے لوگ ٹوٹ کر ان کی طرف آئیں گے بلکہ دیگر بہت سے پختون بھی ان کی قیادت میں کامکرکے خوشی محسوس کریں گے بہرحال اس قسم کے سبز باغ دکھا کر اور استدلال دے کر بیگم نسیم ولی خان کی سربراہی میں یہ دھڑا قائم کروایا گیا لیکن ابتدائی چند پریس کانفرنسوں اور جوش و خروش کے بعد یہ گروپ بتدریج سرد پڑے گا ہم معمولی معمولی اختلافات پر سیاسی جماعتوں کی دھڑے بندی کے خلاف نہیں اس قسم کی دھڑے بندی کا مطلب یہ نہیں کہ الگ سے جماعت ہی قائم کر دی جائے جماعتوں کے اندر مختلف آراء ہوتی ہیں لیڈروں کے درمیان اختلافات بھی ہوتے ہیں اس قسم کے اختلافات جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں اس کا یہ مطلصب نہیں کہ اختلاف رائے کو بنیاد  بنا کر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے اسے کمزور کر دیا جائے ملک کو اس وقت مضبوط اور موثر سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے چھوٹے دھڑوں کی صرورت نہیں ہم تو اس رائے کے بھی حامی ہیں کہ اے این پی کا دائرہ وسیع کرکے اسے محض پختونوں کے حقوق کی علمبردار نہیں بلکہ قومی جماعت کی حیثیت دی جائے اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے لئے بھی اس کے دروازے کھولے جائیں' زبان فرقے اور علاقائی سوچ سے بلند ہو کر ہی جماعتیں ملک و قوم کی بہتر خدمت کر سکتی ہیں اسفند یار ولی ایک موثر قائد ہیں انہوں نے اے این پی کی ساکھ اور کارکردگی میں اضافہ کیا ہے انہیں جماعت کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے بارے میں بھی قائدین سے مشاورت کرنی چاہیے۔