مسلم لیگ (ن) کو متحد رکھنے کیلئے لازم ہے کہ سب کو اعتماد میں لیا جائے

برسراقتدار مسلم لیگ (ن) نے سینیٹر سردار محمد یعقوب خان ناصر کو پارٹی کا قائمقام صدر منتخب کرلیا ہے جبکہ سابق وزیر داخلہ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ قائمقام صدر کا فیصلہ پہلے اور اجلاس بعد میں ہوا ہے پارٹی میں جمہوریت ہے  نہ مشاورت' مرکزی مجلس عاملہ کے اس اجلاس کی صدارت پارٹی کے چیئرمین راجہ محمد ظفرالحق نے کی اجلاس میں عاملہ کے 55ارکان کو مدعو کیا گیا تھا مجلس عاملہ کے 5ارکان ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے جبکہ ملک میں موجود ہونے کے باوجود سینیٹر نجمہ حمید ' سینیٹر پرویز رشید' ڈاکٹر آصف کرمانی' نواز شریف اور شہباز شریف لاہور میں مصروفیات کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے اطلاعات کے مطابق اجلاس میں احسن اقبال نے سردار یعقوب خان ناصر کو قائمقام صدر منتخب کرنے کی قرارداد پیش کی جس پر مجلس  عاملہ کے ارکان نے ہاتھ کھڑے کرکے قرارداد منطور کرلی اس موقع پر مجلس عاملہ نے سابق وزیراعظم نوز شریف' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی' ان کی کابینہ' حکومتی کارکردگی آئین ' قانون کی بالادستی کے لئے متوقع اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق قراردادوں کی متفقہ طور پر منظور دی۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے واقعات کی بھی مذمت کی گئی ایک قرارداد کے ذریعے مسلم لیگ(ن) کی مجلس عاملہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کے لئے نواز شریف  جو اقدامات کریں گے ان کی حمایت کی جائے گی ایک اور قرارداد میں نواز شریف کے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ جانے اور عوام  کی طرف سے بھرپور استقبال کے فیصلے کو سراہا گیا آئندہ کے فیصلوں کے ذریعے نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اجلاس کے دوران چوہدری نثار علی  نے اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ سردار یعقوب خان ناصر کو قائمقام صدر بنانے کا فیصلہ رائے ونڈ لاہور میں ایک روز قبل کرلیا گیا جس کی خبر تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات میں نشر اور شائع ہوئی آج ہمیں کس مقصد کے تحت بلایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں ہمارے فیصلے مشاورت سے ہونے چاہئیں  میں اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی کے خلاف ہوں اس پالیسی سے گریز کیا جائے ہمیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانی چاہئیں ٹکرائو کی پالیسی سے نواز شریف مسلم لیگ (ن) اور حکومت کو شدید نقصان پہنچے گا یہ درست  ہے کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت سابق وزیراعظم کی نااہلی کے بعد ان کا پارٹی صدارت پر برقرار رہنا ممکن نہیں رہا چنانچہ یہ طے پایا ہے کہ اگست کو جنرل باڈی کا  اجلاس بلا کر شہباز شریف کو صدر منتخب کرایا جائے گا اس سے قبل ضرورت کے تحت سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر کو قائمقام صدر منتخب کرایا جائے گا لیکن اس معاملے میں یہ لازم تھا کہ نواز شریف جو قبل ازیں پارٹی کے صدر تھے  کے صدر تھے فون پر ہی سہی ساتھیوں  سے مشاورت ضرور کرتے' یوں محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے لاہور میں موجود پارٹی کے بعض قریبی رہنمائوں سے مشاورت کے بعد پہلے فیصلہ کیا اس کے بعد مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کرلیا گیا' چوہدری نثار علی اور ان جیسے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی اس صورتحال جبکہ پارٹی اور حکومت پر مشکلات کا دور شروع ہوچکا ہے پارٹی کو منظم اور متحد رکھنے کے لئے تمام پارٹی لیڈروں کو ہر معاملے میں اعتماد میں لینا ضروری ہے ہم چوہدری نثار علی کی اس حوالے سے اتفاق کرتے ہیں کہ پارٹی میں جمہوریت ہے نہ مشاورت' پارٹی گزشتہ چار برسوں سے حکومت میں ہے  لیکن اس دوران پارٹی کے کتنے اہم اجلاس اور کارکنوں کے کنونشن منعقد ہوئے یقینا اس کا جواب نفی میں ہے جمہوریت کی علمبردار اور ووٹ کے تقدس کی دعویدار جماعت کی اپنی صفوں میں جمہوری اقدار بہت مضبوط ہونی چاہئیں تمام ساتھیوں کو اب بھی اعتماد میں لے کر ان کی شکایتوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے اور ان کے تحفظات دور کئے جاسکتے ہیں اگر اس طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو پارٹی کو متحد اور منظم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔