عمران خان کا مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں' نواز شریف کو ہٹانا تھا

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے اپنی پارٹی کے ایک رہنما حاجی محمد شعیب خان شہید ایم پی اے کی پہلی برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی سیاسی امور پر کھل کر گفتگو کی ہے انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیاست کے میدان میں عمران خان کا بھرپور مقابلہ کریں گے اس لئے پارٹی کارکنوں کواپنے اختلافات ختم کرکے آئندہ انتخابات کے لئے بھرپور تیاری کرنی چاہیے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ نواز شریف کو ہٹانا تھا انہوں نے کہا کہ اے این پی (ولی) آئندہ چند دنوں میں اے این پی میں ضم ہو جائے گی اس حوالے سے معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پختون قوم کے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے اس لئے ہم نے اپنے ہی خاندان سے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے آرٹیکل63,62میں ترمیم کے حوالے سے نواز شریف سے بات کی تھی ان پر واضح کر دیا تھا کہ ضیاء الحق نے آرٹیکل میں جو ترامیم کی ہیں وہ شق سے نکال کر آرٹیکل کو اصل شکل میں بحال کر دیا جائے لیکن انہوں نے ہماری بات نہ مانی اور آج وہ اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں اسفند یار ولی نے کہاکہ سپریم  کورٹ نے پانامہ کیس میں نواز شریف کی نااہلی کا جو فیصلہ کیا ہم نے جمہوریت کی خاطر اسے تسلیم کیا ہے حالانکہ اس فیصلے پر ہمارے تحفظات موجود ہیں انہوں نے ملک کی تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ خدا را وہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر اپنے سیاسی معاملات اور جنگیں لڑیں تاکہ کسی کو آئندہ منتخب حکومت کو ختم کرنے کا موقع نہ مل سکے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے خان عبدالولی خان کے ساتھ  صوبے کا نام پختونخواہ رکھنے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے اور سی پیک منصوبے میں کے پی کے کو اسکا حق دینے کا وعدہ کیا تھا اور ہم نے ان پر واضح کیا تھا کہ ہمیں پختونوں کے حقوق نہ دئیے گئے تو آئندہ میاں صاحب کو جدہ میں جگہ نہ ملے گی انہوں نے کہا کہ کپتان کی حکومت ناکام ترین حکومت ہے جو حکومت ڈینگی وائرس نہ ختم کر سکی صوبے اور عوام کی کیا خدمت کرے گی صوبے میں سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی حالت ابتر ہوچکی ہے کپتان کہتے ہیں کہ کرپشن کے لئے ثبوت ہو نے چاہئیں لیکن وہ خود اپنی ایم این اے عائشہ گلالئی کے الزامات پر خاموش ہیں گلالئی موبائل دینے پر تیار ہے لیکن کپتان موبائل کیوں نہیں دے رہے۔ اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ عمران  خان' جہانگیر ترین اور ترکئی خاندان کی آف شور کمپنیاں موجود ہیں کرپشن کا واویلا مچانے والے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق پہلے خیبر بنک کا معاملہ اٹھائیں تب کرپشن کی بات کریں صوبے میں عمران خان کے ارکان اسمبلی پر کرپشن کے الزامات آئے لیکن انہوں نے اپنے ارکان سے استعفیٰ  طلب نہ کیا جبکہ وفاق سے اور میاں نواز شریف سے غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر استعفےٰ طلب کرتے تھے۔ اے این پی کے سربراہ نے بجا طور پر تجزیہ کیا ہے کہ عمران خان کا مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ نواز شریف کو ہٹانا تھا اگر ان کا یہ بنیادی مقصد ہوتا تو 2013ء کے الیکشن کے بعد سے ہی وہ احتساب کی بات کرتے مگر انہوں نے اس وقت انتخابی دھاندلیوں کا معاملہ اٹھایا اور پھر یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے دائیں بائیں موجود ان کی پارٹی کے متعدد لیڈروں پر بھی کرپشن کے متعدد الزامات ہیں جو لیڈر کرپشن کے خاتمے کی بات کرتا ہے وہ اپنی صفوں میں کرپٹ لیڈروں کو جمع نہیں کرتا مگر تحریک انصاف کا سرے سے یہ سلوگن ہی نہ تھا یہاں تک کہ اسلام آباد میں دھرنے کے موقع پر بھی تحریک انصاف کی طرف سے کرپشن کے حوالے سے حکومتی پارٹی کی اعلیٰ شخصیات پر الزامات نہیں لگائے گئے  اس وقت بھی کپتان نے کسی ایمپائر کا انتظار تو کیا جو انگلی کے اشارے سے منتخب حکومت کو چلتا کر دے مگر حکومت پر کرپشن کے الزامات نہیں لگائے۔ یہ معاملہ اس وقت اٹھا جب پانامہ لیکس میں سابق وزیراعظم کے صاحبزادوں کے نام سامنے آئے اوائل میں نواز شریف کا نام فہرست میں درج تھا بعدازاں بتایا گیا کہ ان کا نام غلطی سے شامل ہوا تھا ادھر نواز شریف نے قومی اسمبلی میں اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لئے پیش کر دیا اس صورتحال میں عمران خان نے بدعنوانی کے الزامات کو اچھال کر حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا اور پھر اس کے بعد اسی الزام کے تحت عدالتی جنگ شروع کر دی اگر کرپشن کے خاتمہ کے معاملے میں وہ سنجیدہ ہوتے تو خیبرپختونخواہ میں ان کی حکومت اس حوالے سے احتساب کی خوبصورت  مثالیں پیش کرتی مگر اس کے برعکس انہوں نے احتساب کا جو دفتر کھولا تھا اسے بھی بے توقیر کرکے رکھ دیا ہے' قوم کی خواہش ہے کہ ملک سے کرپشن کو ختم کیا جائے مگر اس کی یہ بدقسمتی ہے کہ عمران خان جو کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لے کر اٹھے تھے اس نعرے میں مخلص نہ تھے بلکہ نواز شریف کو منظر سے ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ اپنی مقبولیت کے باعث وہ سیاست کے میدان سے انہیں پیچھے نہیں دھکیل سکتے تھے۔