خیبرپختونخواہ میں ڈینگی وائرس کے خلاف پنجاب حکومت کی معاونت اور جوابی ردعمل

خیبرپختونخواہ پر ڈینگی وائرس کے حملے کے نتیجے میں آٹھ سو مریضوں کے اس میں مبتلا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں یہ امر قابل تحسین ہے کہ ان اطلاعات کے بعد پنجاب کے وزیر صحت نے صوبے کے عوام کی خدمت کے جذبے سے پشاور کا دورہ کیا اور کہا کہ وہ سیاست نہیں بلکہ مریضوں کے علاج اور ڈینگی کو شکست دینے کے لئے آئے ہیں یہ امر ناقابل فہم ہے کہ شروع میں خیبرپختونخواہ کی حکومت نے پنجاب حکومت کی مدد ینے سے انکار کیا تاہم آخار کار ڈینگی کو شکست دینے کے لئے معاونت کے حصول پر آمادہ ہوگئی اور یہ موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت ایمبولینس اور ادویات ہمارے حوالے کرے ہم خود ڈینگی پر قابو پالیں گے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی میڈیکل ٹیم کی جانب سے مقامی حجرے میں 800افراد کی سکرنینگ کے دوران ڈھائی سو مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے بعد پنجاب کے وزیر صحت نے ہنگامی طور پر مزید دو موبائل یونٹ'8ایمبولینس' ادویات اور طبی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ' پنجاب کے وزیرصحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ہم سیاست کے لئے بلکہ خیر سگالی کے تحت ڈینگی کے مریضوں کی مدد کے لئے پشاورت آئے ہیں لیکن خیبرپختونخواہ کے وزیر صحت نے ملنے سے انکار کر دیا بار بار پیغامات کے باوجود شہرام ترکئی کے ساتھ رابطہ نہیں ہوسکا۔ یہ امر غور طلب ہے کہ پشاور میں ڈینگی کی وبا پھیلنے کے بعد یونین کونسل تہکال کے عوام اور منتخب بلدیاتی نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مدد کی اپیل کی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ نے وزیر صحت کی سربراہی میں خصوصی یونٹ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا اگرچہ خیبرپختونخواہ کے وزیر صحت نے پنجاب کے وزیر صحت کے ساتھ ملاقات سے انکار کیا جس کے بعد پنجاب کے وزیر صحت نے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ  متاثرہ  یونین کونسل کا دورہ کیا اور ساڑھے تین سو مریضوں کے ٹیسٹ کئے جن میں سے 162افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی پنجاب حکومت کی جانب سے متاثرہ مریضوں میں مفت ادویات تقسیم کی گئیں۔ یہ درست ہے کہ خیبرپختونخواہ کی حکومت نے سرکاری طور پر پنجاب حکومت سے ڈینگی وائرس کے خلاف معاونت کے لئے درخواست نہیں کی تھی  لیکن اگر اس کی ایک یونین کونسل کی طرف سے پنجاب حکومت سے درخواست کی گئی اور اس کے جواب میں اعلیٰ سطح کی معاونت ٹیم بھیجی گئی تو اس سے معاونت حاصل کرنے میں کیا ہرج تھا یہ عوام کی صحت اور زندگی کا مسئلہ تھا صوبے کے وزیر صحت شہرام ترکئی کو پنجاب کے اپنے ہم منصب سے ملاقات سے پہلوتہی زیب نہیں دیتی انہوں نے افسوس ناک رویے کا مظاہرہ کیا حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے والوں کو اس قسم کے سطحی ار تنگ نظری پر مبنی رویوں سے گریز کرنا چاہیے پنجاب کی ٹیم متاثرہ مریضوں کی مدد کے لئے گئی تھی وہ کسی کے ذاتی حجرے میں نہیں گئی تھی کہ اس پر گھر کے دروازے بند کر دئیے جاتے یا ملاقات سے انکار کیا جاتا پختون کلچر میں تو اس قسم کے رویے کی بھی اجازت نہیں ہے کوئی شہری چاہے پنجاب میں ہو یا خیبرپختونخواہ میں وہ پاکستان کا شہری ہے اور ہر حکومت کی ذمہ داری ہے  کہ صحت سمیت کسی بھی معاملے میں اس کی مدد کرے۔