Get Adobe Flash player

انتخابی اصلاحات اور طاقتور و خود مختار الیکشن کمیشن وقت کی ضرورت

منگل کے روز حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ پیش رفت سامنے آئی کہ اس نے آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں ترمیم کرنے کا اعلان کردیا وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62میں نااہلی کی مدت کا کوئی ذکر نہیں ہے ذیلی  کو کمیٹی میں لے کر جائیں گے دوسری اہم پیش رفت انتخابی اصلاحات بل کی منظوری تھی اس بل کی ایان نے کثرت رائے سے منظوری دی بل میں حکومت اور اپوزیشن کی چالیس سے زائد ترامیم شامل ہیں منظوری کے عمل کے دوران تحریک انصاف کے ارکان نے ایوان سے واک آئوٹ کردیا بل کی رو سے شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو ہائیکورٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے وہ کسی بھی غیر قانونی عمل کے خلاف از خود نوٹس لے سکے گا اسے توہین عدالت پر کارروائی کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے مذہب اور فرقے کو استعمال کرنے والوں کیلئے تین سال قید ہوگی انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد انتخابی حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان پر پابندی ہوگی ایک سے زائد ووٹ ڈالنے پر 6ماہ قید کی سزا ہوگی وزیر قانون نے بتایا کہ الیکشن کمیشن بائیو میٹرک کی 300اور الیکٹرانک ووٹنگ کی 400مشینیں منگوا چکا ہے ضمنی الیکشن میں اس کا تجربہ کریں گے کامیاب ہوگئے تو ترمیم لے آئیں گے ابھی انتخابات میں دس ماہ باقی ہیں بعض دینی جماعتوں کا اعتراض تھا کہ ان کی انتخابی فہرستوں سے خواتین کی تصاویر کو استثنےٰ دیا جائے تاہم حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اس ترمیم کی مخالفت کردی دراصل یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی مخصوص حلقے سے خواتین ووٹروں کی فہرست تصویر کے بغیر شائع کی جائے کسی بھی مذہبی جماعت کا کوئی امیدوار کسی بھی حلقے میں کھڑا ہوجائے اور پھر یہ مطالبہ کرے کہ وہاں اس کی لاتعداد ووٹر موجود ہیں چنانچہ ان کی ووٹر فہرست میں تصویر نہیں ہونی چاہیے اس قسم کی تجاویز ناقابل عمل ہیں مگر اس کے باوجود دانستہ پیش کردی جاتی ہیں اور اس طرح سادہ لوح عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ے کہ اسلام پر عمل درآمد کے حوالے سے ان کی کوششوں کو سبو تاژ کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف جس نے اوائل میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کے قیام میں دلچسپی لی تھی مجموعی طور پر اس نے کمیٹی کے بہت کم اجلاسوں میں شرکت کی کمیٹی کی طرف سے معاملات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ تحریک انصاف کا منفی طورز عمل رہا ہے اصلاحات کی منظوری کے عمل میں بھی اس کا رویہ منفی تھا اسے ایوان میں بیٹھ کر متعلقہ معاملات میں اختلافی ووٹ دینا چاہیے تھا بہرحال تمام تر مشکلات کے باوجود ایک خود مختار اور طاقتور الیکشن کمیشن کے قیام اور شفاف الیکشن کے سلسلے میں پارلیمنٹ نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔