دوست ممالک اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر جوابی افغان پالیسی دی جائے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان پالیسی منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ کے وزیرخارجہ نے پریس کانفرنس میں جو لہجہ اختیار کیا وہ بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے رویہ نہ بدلا تو اسکی امداد کم اور نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کردینگے وزیر خارجہ ایکس ٹیلرسن نے کہا کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے اسے عسکریت پسندوں کو محفوظ ٹھکانے دینا بند کرنے ہوں گے ہمیں اس کے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر بھی تحفظات ہیں جبکہ دوسری طرف امریکی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی فضائی قوت میں اضافہ کیا جائے گا اور افغان فضائیہ کی قوت میں بھی اضافہ کیا جائے گا جبکہ افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل نکولسن نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ طالبان تشدد کی راہ چھوڑ کر مصالحت کا اعلان کریں۔ امریکہ کے صدر اور وزیر خارجہ نے جس افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے یہ سراسر امریکی مقاصد اور مفادات کے تابع ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ایک خود مختار جمہوری ملک کی حیثیت سے ہماری منتخب حکومت نے نے اپنے ردعمل میں کس حد تک قومی خواہشات اور مفادات کو مدنظر رکھا ہے ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہماری وزارت خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کو محض مایوس کن قرار دے کر درست طور پر قوم کی ترجمانی نہیں کی یہ ردعمل بذات خود مایوس کن ہے البتہ اس کے برعکس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نسبتاً ایک مضبوط موقف پیش کیا ہے امریکی سفیر کی ملاقات کے موقع پر انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کو کسی امریکی مالی اور عسکری امداد کی ضرورت نہیں ہمیں اعتماد چاہیے امریکہ صرف دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام کیلئے بہت کچھ کیا امن کیلئے تمام سٹیک ہولڈروں کو مشترکہ کوشش کرنی ہوں گی مشترکہ کوششوں کے بغیر یہ جنگ منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتی۔ آرمی چیف سے جی ایچ کیو میں ملاقات کرکے امریکی سفیر نے نئی افغان پالیسی پر انہیں بریفنگ دی لیکن ہمارے نزدیک جمہوری حکومت کو اس تمام صورتحال میں جس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا تھا اس نے وہ نہیں کیا چنانچہ عوامی حلقوں میں شدید اضطراب پایا جارہا ہے سینٹ کے ایوان میں اس کی بھرپور باز گشت سنائی دی ایک طرف امریکہ پاکستان کے اندر براہ راست جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے دہشتگردی کے خلاف ہماری قربانیوں اور کامیابیوں کو نظر اندازکرکے اپنی ساری ناکامیوں کا جلسہ ہمارے اوپر ڈال رہا ہے اور سراسر بے بنیاد الزام عائد کررہا ہے اور دوسری طرف ہم اس کے اس سارے رویے کو محض مایوس کن قرار دے رہے ہیں اور ہمارے پاس اس سے زیادہ کوئی لفظ یا ردعمل نہیں ہے۔ دانشمندی اور قومی امنگوں کا یہ تقاضا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے ان سے امریکی رویے پر احتجاج کیا جاتا اور امریکی الزامات اور دھمکیوں کو مسترد کردیا جاتا دو ٹوک انداز میں یہ بتایا جاتا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے کیا کردار ادا کیا اور اس کے جواب میں کس نے افغانستان میں نئے بھارتی قونصلیٹ قائم کروائے جن کی آڑ میں کالعدم تحریک طالبان کی پشت پناہی کیلئے ''را'' نے اپنے ٹھکانے فعال کئے بھارت اگر آج افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کررہا ہے تو اسے کابل حکومت اور امریکی انتظامیہ کی مکمل اشیر واد حاصل ہے یہ بھی مناسب تھا کہ حکومت کی طرف سے وزیر خارجہ کے مجوزہ دورہ امریکہ کو ملتوی کرنیکا اعلان کردیا جاتا لیکن حکومت اس حد تک نروس اور بے سمت تھی کہ فوری طور پر اسکی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا اس کے مقابلے میں دوست ملک چین نے زبردست بیان دے کر پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جتنی قربانیاں دی ہیں اور جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کا اعتراف کیا جانا چاہیے دوسرے لفظوں میں چین نے اس حوالے سے امریکی موقف کی نفی کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ پاکستان کے ضمن میں دہشتگردی کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعاً درست نہیں ہے۔قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ درست ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے اور امریکی افغان پالیسی کے جواب  میں پاکستانی قوم کی افغان پالیسی مرتب کی جائے' جس طرح پارلیمنٹ نے اس سے قبل یمن تنازعہ کے حوالے سے دو سال قبل اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا اسی  طرح اب بھی ہمیں تمام فیصلے پارلیمنٹ سے حاصل کرنے ہوں گے۔ ہمیں امریکہ پر یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اسے رسد کے لئے پاکستان نے زمینی اور فضائی حدود کی عرصہ دراز سے جو مفت سہولت فراہم کر رکھی ہے اسے کسی بھی وقت ختم کیا جاسکتا ہے دوست ممالک اور پاکستان کی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر ہمیں مملکت اور خطے کے مفاد میں جوابی افغان پالیسی وضع کرنی ہوگی۔