ملک میں طلباء یونینز کی بحالی کا مسئلہ' احتیاط کی ضرورت

سینٹ کے  پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے اجلاسوں کی سفارشات کی روشنی میں ملک میں طلباء یونینزکی بحالی کے لئے متفقہ طور پر جو قرارداد منظور کی گئی گزشتہ روز سینٹ کے ایوان میں بھی اسے منظور کرلیا گیا قرارداد میں حکومت کی طلباء یونین کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں بلاتاخیر ضابطی اخلاق مرتب کیا جانا چاہیے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کی جمہوری عمل میں شراکت انتہائی اہم ہے طلباء یونینزسے ملک میں سماجی اور سیاسی عمل کو تقویت ملی ہے منتخب طلباء نمائندوں کو اپنے اداروں میں ثقافتی ' فلاحی سرگرمیوں کا موقع ملتا ہے اپنے تعلیمی حقوق کو بلند کرنے کا واحد پلیٹ فارم طلباء یونین میں ان کی عدم موجودگی سے بہت نقصان ہوا ہے قرارداد کے مطابق تحریک پاکستان میں طلباء کی خدمات اور قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا طلباء نے ہمیشہ آمریت کی  مزاحمت کی ہے ملک کو سیاسی قیادت کی فراہمی میں طلباء یونینزکا بنیادی کردار ہوتا ہے اسلام آباد میں طلباء یونین کی بحالی اور انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق وضع ہونا چاہیے قرارداد میں صوبوں سے بھی یہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ طلباء یونین کی بحالی کا جائزہ لیں یہ امر غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی طلباء یونینزپر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ صورتحال کا تسلسل سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ طلباء یونینزکی بحالی بلاشبہ ضروری ہے لیکن انہیں راہ راست یعنی صحت مند تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں تک محدود رکھنا تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اس معاملے میں ذرا سی بھی غفلت تعلیمی امن کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں جبکہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے ہمیں اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے طلباء یونین کی بحالی کے ضمن میں غیر معمولی احتیاط سے کام لینا ہوگا اس امر سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہماری متعدد سیاسی جماعتیں طلباء یونینزکو اپنے اپنے مخصوص سیاسی  مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں وہ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں اپنی حامی طلباء تنظیموں کی کامیابیوں کے لئے بھرپور فنڈز فراہم کرتی ہیں اور پھر انہیں جلسوں' اپنی ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں میں  استعمال کرتی ہیں اس طرح یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز میں اسلحہ اور منشیات کے سلسلے بھی  چل نکلتے ہیں ان تنظیموں کے پیچھے چونکہ سیاسی جماعتوں کی طاقت ہوتی ہے اس لئے عام طور پر تعلیمی اداروں کی انتظامیہ بھی ان سے خائف رہتی ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے پاکستان کے عوام ماضی میں یہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں اب اگر ملک میں طلباء یونینز بحال کرنے کی جانب پیش رفت ہوتی ہے تو ہمیں آج کے حالات اور ماضی کے تلخ تجربات کو بہرصورت پیش نظر رکھنا ہوگا۔