Get Adobe Flash player

قومی سلامتی کمیٹی کا مضبوط موقف اور موثر قومی بیانیہ

وزیر اعظم کی صدارت میں منعقدہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے تمام خدوخال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور ایک ایسا بیانہ پیش کیا گیا جسے بلا شبہ پاکستان کی قوم کا بیانیہ قرار دیا جاسکتا ہے اس بیانہ میں جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے پاکستان پر تمام الزامات کو مسترد کردیا گیا وہاں اس امر پر بھی زور دیا گیا امریکہ افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کرے کیونکہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جاسکتی نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے واضح کیا کہ مشرقی افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جس کے خلاف امریکہ کو کارروائی کرنی چاہیے کمیٹی نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کا ستھ دیتا رہے گا اور افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے بھی تیار ہے پاکستان نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے ذریعے امریکہ کو یاد دلایا کہ افغانستان میں فوجی کارروائی ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنی پاکستان نے بھی دہشتگردی کے خلاف ہزاروں جانوں کا نذرانہ دیا امریکہ امداد کے بجائے ہماری قربانیوں کا احترام کرے پاکستان کی طرف سے دو ٹوک انداز میں کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے کے استعمال میں نہ دینے کے معاملے میں پر عزم ہے اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے آپریشن اور اس کی کامیابیاں اس کے خاتمے کیلئے اس کے عزم کا مظہر ہیں اسی باعث ان آپریشنز کے معاملے میں امریکہ سے بھی معاونت کی گئی پاکستان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سرحد پار سے آنے والے دہشتگردوں کو سامنے لایا جائے پاکستان نے غیر مبہم الفاظ میں کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں اس کا کمان اینڈ کنٹرول سسٹم عالمی معیار کے مطابق ہے نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے بھارتی مذموم عزائم کی طرف بھی امریکہ سمیت عالمی برادری کو متوجہ کیا اور کہا کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مسلسل مداخلت کررہا ہے اور اس کے عدم استحکام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی اس پالیسی کا بھی اعادہ کیا کہ وہ کشمیریوں کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی طرف سے جاری بیانیہ افغانستان کی معروضی حقیقتوں کوواضح کرتا ہے امریکہ اگر یہ خواہش کرتا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر جاکر اس کی جنگ لڑے تو یہ ممکن نہیں ہے اس کی اپنی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف فوری اور موثر کارروائیاں کرے جہاں تک پاکستان کی سرزمین کو دہشتگردی کے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا معاملہ ہے پاکستان اس کا شدید مخالف ہے اور اس کا ثبوت دہشتگردی کا نفراسٹرکچر ختم کرنے کے سلسلے میں اسکی کامیابیاں ہیں پاکستان اگر انتہا پسندوں کو تحفظ فراہم کرتا تو اس کے ہزاروں افراد اس جنگ کی نذر ہوتے نہ اسکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچتا افغانستان کے اندر سے جو دہشتگرد سرحد پار کرکے اسکی سرزمین پر حملے کرتے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ہمارے نزدیک پاکستان نے اپنے اس ٹھوس موقف کا موثر انداز میں ذکر کیا ہے جو اس سے پہلے بھی امریکہ پر آشکار کیا جاتا رہا ہے جس موثر طریقے سے پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے آپریشن کئے اور کامیابیاں حاصل کیں اگر افغانستان کے اندر بھی اسی انداز سے ایکشن ہوتا تو یقینا اس تباہ حال مملکت میں امن کے آثار قائم کئے جاسکتے تھے مگر اس کے  برعکس یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ پاکستان مخالف دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ''را'' نے پاکستان کے خلاف استعمال کیا اس طرح دہشتگردوں کو پاکستان میں عدم استحکام کے مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے کوئی بھی یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ'' را'' اور این ڈی ایس کی یہ مذموم کوششیں افغانستان میں موجود امریکی ایجنسیوں کی نظر میں نہ تھیں ہم بلا خوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اس بارے میں مکمل علم تھا اور پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی کوششوں پر اس کی خاموشی ان پر مہر تائید ثبت کرنے کے مترادف تھی یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت کو یہ مضبوط پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کا تحفظ جانتا ہے اور اس کے مکرو ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا اس سے کسی طور پیچھے نہیں ہٹے گا۔