بنک آف خیبر کے سربراہ اور جماعت اسلامی کا تنازعہ

جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ خیبر بنک کے ایم ڈی کو ہٹائے نہ جانے کے معاملے پر صوبائی حکومت کے رویے کے پیش نظر پارٹی کے تینوں وزراء اپنے دفاتر نہیں جائیں گے مجلس عاملہ نے وزارتوں سے استعفوں اور تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کے خاتمہ سمیت مختلف آپشنز پر غور کرتے ہوئے بنک کے معاملہ میں کسی بھی حتمی فیصلے کا اختیار صوبائی امیر کو دے دیا ہے جو ایک دو روز میں حکمت عملی کا باضابطہ اعلان کرینگے مجلس عاملہ کے اجلاس میں بنک آف خیبر کے معاملہ پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے متعدد مرتبہ بنک کے ایم ڈی کو ہٹانے کی یقین دہانیاں کرائیں لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے تاخیری حربے اختیار کئے جارہے ہیں جس سے جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔جماعت اسلامی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی اگر عمل کے سانچے میں ڈھل گئی تو خدشہ ہے کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے گی قومی وطن پارٹی کو حکومت سے الگ کرنے کے بعد حکومتی اراکین کی مجموعی تعداد 69رہ گئی ہے جن میں کے سات ارکان کے علاوہ تحریک انصاف کے باغی ارکان بھی شامل ہیں جبکہ حکومت کو برقرار رکھنے کیلئے کم از کم 63ارکان کی ضرورت ہے۔ بنک آف خیبر اور جماعت اسلامی کا تنازعہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے اس کا آغاز اس وقت ہوا جب بنک کے ایم ڈی نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر خزانہ کے خلاف اشتہارات کے ذریعے بعض الزامات عائد کئے ان الزامات میں کہا گیا کہ وزیر خزانہ حکومتی وسائل کو اپنے جلسوں میں استعمال کررہے ہیں اور میرٹ کے منافی بھرتیاں کررہے ہیں قومی خزانے اور عوامی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں مذکورہ الزامات کے بعد جماعت اسلامی کی طرف سے شدید ردعمل آیا اور مذکورہ بنک کے ایم ڈی کی برطرفی کا مطالبہ اٹھایا گیا اگرچہ تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی مگر اسکی رپورٹ اسمبلی کے  ایوان میں پیش کی گئی نہ اس پر کسی قسم کی کارروائی ہوئی حکومتی لیت و لعل کے بعد اب جماعت اسلامی کا لہجہ مزید سخت ہوگیا ہے چنانچہ اس کی طرف سے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکیاں دی جانے لگی ہیںہم سمجھتے ہیں اس معاملے میں صوبائی حکومت کو جماعت اسلامی کے دبائو میں آنے کی بجائے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ بنک کی ذمہ دار ترین شخصیت نے جو الزامات عائد کئے ہیں ان کی تحقیقات کی جائے اور دیکھا جائے کہ ان میں کس حد تک صداقت ہے اگر یہ سراسر درست پائے جائیں تو جماعت اسلامی کے وزیر خزانہ کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے بصورت دیگر بنک آف خیبر کے ایم ڈی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کہ انہوں نے بے بنیاد الزام تراشی اور کردار کشی کیوں کی اس سارے معاملے میں بنک آف خیبر کے سربراہ کی برطرفی سے زیادہ اہم ان کے الزامات کی حقیقت کو جاننا ہے اس حقیقت تک پہنچے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جاسکتے۔