Get Adobe Flash player

آئین کی بالادستی' قومی سطح پر مکالمہ ناگزیر ہوچکا ہے

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے لاہور میں وکلاء کنونشن سے خطاب کے دوران بہت سے اہم سوالات اٹھائے ہیں ان سوالات کا تعلق اس مقدمے سے ہے جس میں انہیں نااہل قرار دیا گیا اگر انہوں نے محض سیاسی بنیادوں پر سوالات اٹھائے ہوتے تو انہیں ان کے انفرادی یا جماعتی خیالات سے تعبیر کیا جاسکتا تھا مگر انہوں نے ملک کے قانون دان طبقے کو مخاطب کیا ہے اور سراسر قانونی نکات پیش کئے ہیں اس تناظرمیں ہم سمجھتے ہیں ملک میں ایک نئی بحث اور نئے مکالمے کا آغاز ہوگیا ہے یقینا بحث آگے بڑھے گی تو بہت سے ابہام دور ہوں گئے اور بہت سے حقائق بھی آشکار ہوں گے۔ سابق وزیراعظم نے اگرچہ اپنے خلاف فیصلے پر عمل کیا ہے لیکن اپنے اٹھائے گئے سوالات کے تناظر میں وہ اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ان کا یہ موقف بھی غور طلب ہے کہ ملک میں اب تک جتنے بھی وزرائے اعظم آئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی کیوں مدت پوری نہ کرسکا ان کا کہنا ہے کہ اگر مجھ میں خرابی ہے کہ میں تینوں بار اپنی آئینی مدت سے قبل فارغ کر دیا گیا تو کیا سب  میں خرابیاں موجود تھیں ؟ کسی ایک نیبھی مدت کیوں پوری نہ کی مسئلہ اور خرابی کہیں اور ہے بقول ان کے ہمیں طاقت اور عدالت کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ جب بھی  فوجی  آمریت آئی عدلیہ نے اسے سند جواز عطا کی اور اسے تقویت فراہم کی اگر یہ گٹھ جوڑ نہ ہوتا تو آمریت کا دورانیہ اتنا طویل نہ ہوتا۔ سابق وزیراعظم کے اپنے خلاف مقدمہ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات یقینا غور طلب اور بے حد سنجیدہ ہیں ان کا استفسار ہے کہ کیا کبھی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی؟ کیا نیب کو قواعد سے ہٹ کر عدالتی ہدایت دی جاسکتی ہے؟ کیا قومی سلامتی سے ہٹ کر کسی معاملے کی تحقیق کے لئے خفیہ ایجنسی کے ارکان کو تفتیش سونپی گئی؟ کیا کسی درخواست دہندہ نے دبئی کی کمپنی اور مری تنخواہ پر نااہلی مانگی تھی؟ کیا کوئی عدالت ملکی قوانین کو نظرانداز کرکے کسی ڈکشنری کا سہارا لے سکتی ہے؟ کیا عدالت کو جے آئی ٹی کی بنیاد  پر فیصلہ دینے کا حق تھا؟ کیا ہماری ستر سالہ تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی ایک مقدمے میں چار فیصلے آئے ہوں؟ کیا کبھی وہ جج صاحبان پھر سے حتمی فیصلے والے بنچ میں شامل ہوئے جو پہلے ہی اپنا فیصلہ دے چکے ہوں؟ کیا ان جج صاحبان کو بھی جے آئی ٹی کی بنیاد پر فیصلے دینے کا حق تھا جنہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ سنی نہ دیکھی اور سماعت میںبھی شامل نہیں ہوئے؟ کیا پوری عدالتی تاریخ میں کبھی ایسا ہوا کہ نہ صرف نیب کی کارروائی بلکہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے لئے بھی ایسے جج کو نگران مقرر کیا گیا ہو جو پہلے ہی خلاف فیصلہ دے چکا ہو؟ کیا سپریم کورٹ کے جج کی مانیٹرنگ کے نیچے ٹرائل کورٹ کا جج آزاد فیصلہ کر سکتا ہے؟ اور کیا یہ معاملہ عدلیہ کی آ زادی کے حصول کے مطابق ہے؟ سابق وزیراعظم نے جو نکات پیش کئے ہیں اگرچہ قانونی حلقوں میں ان پر پہلے ہی بحث شروع ہوچکی ہے اس کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان نکات کا تعلق چونکہ قانون دان طبقہ اور عدلیہ کے مستقبل سے ہے اس لئے یہ لازم ہے کہ ان پر کسی سیاسی تعصب کے بغیر محض قانونی او علمی طور پر بحث ہونی چاہیے اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کے ذمہ داران کو ایسے مذاکرے کا اہتمام کرنا چاہیے جس میں عدلیہ کی ریٹائرڈ نیک نام شخصیات اور سینئر ترین وکلاء کے پینل کو مدعو کیا جائے اور ہر نکتے کے حوالے سے ان کا تجزیہ حاصل کیا جائے یہ  محض کسی وزیراعظم کی نااہلی کا سوال نہیں ہے بلکہ اس بحث کے ذریعے قانونی نکات کے غلط یا درست استعمال کے جائزے اور حقائق کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہونی چاہیے نااہلی کی حد تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا اب نیب کے ریفرنسز کے حوالے سے کارروائی جاری ہے لیکن قوم کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جس آمریت نے جمہوریت اور خوشحالی کو پیچھے دھکیلا محض اس کی مذمت ہی کافی نہیں وہ سب بھی قابل مذمت ہیں جنہوں نے آمروں کو سند جواز عطا کی اور اپنے فکر و عمل سے انہیں تقویت فراہم کی۔