روس کی طرف سے پاکستان کے موقف کی حمایت

چین کی طرح روس نے بھی نئی افغان پالیسی کے حوالے سے امریکی رویے پر تشویش ظاہر کی ہے اور اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ' روس کے صدر ولادی میرپوٹن کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کاہلوف نے روسی اخبار افغانستان ڈیلی سے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے  پاکستان خطے کا اہم کھلاڑی ہے جس پر دبائو بڑھانے سے خطے کی سیکورٹی صورتحال مزید خراب ہوگی اور افغان امن عمل کو نقصان پہنچے گا واشنگٹن کو ہر صورت میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کی وجہ سے عالمی سطح پر دہشت گردی پروان چڑھ رہی ہے روس سمجھتا ہے کہ دہشت گردوں کا ڈھانچہ درحقیقت امریکی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے صدر ٹرمپ کے طالبان کو مذاکرات میں شامل کئے جانے کا عندیہ دینے پر ان کا موقف تھا کہ ہوسکتا ہے یہ پالیسی اس لئے اپنائی جارہی ہو کیونکہ امریکہ میدان جنگ میں طالبان کو شکست نہیں دے سکتا انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو خوش آئند قرار دیا جس میں انہوں نے آئندہ کسی ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے کی نیت سے لشکر کشی نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ضمیر کاہلوت نے کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے اس کے بغیر کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی افغان مسئلہ کے حل کے لئے اس کا کردار اہم ہے۔ صدر ولادی میرپیوٹن کے نمائندہ نے بجا طور پر کہا کہ امریکہ دہشتگردی کو اپنے مخصوص مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے اس کا عملی مظاہرہ افغانستان میں پاکستان مخالف دہشت گردوں کے ٹھکانے  ہیں جن کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی اس کے برعکس انہیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مقاصد کے تحت استعمال کیا جارہا ہے پاکستان کا یہ مضبوط اور اٹل موقف ہے کہ امریکہ اگر جدید جنگی سازوسامان اور ایک لاکھ سے زائد فوج کے ذریعے امن قائم نہیں کر سکا تو مزید چار پانچ ہزار فوج یا فضائیہ کا استعمال امن کو یقینی نہیں بنا سکتے' البتہ امن عمل اور مذاکرات کے ذریعے ہی یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے اور پاکستان ماضی کی طرح اس ضمن میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے؟ دہشت گردی کو ختم کرنے کا اس کے علاوہ بھی ایک طریقہ موجود ہے امریکہ آج افغانستان سے نکلنے کا اعلان کر دے افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا طالبان کا تو موقف بھی یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوج کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکہ دہشت گردی کو تخلیق کرتا اور پھر اس کی آڑ میں اپنے مقاصد کی جستجو کرتا ہے روس نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے جو یقینا پاکستان کی اہم  سفارتی کامیابی ہے۔