Get Adobe Flash player

آبادی میں اضافہ اور شہروں کی جانب نقل مکانی کا رحجان

مشترکہ مفادات کونسل میں چھٹی مردم شماری کے حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں ان کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 20کروڑ70 لاکھ74ہزار پانچ سو بیس افراد پر مشتمل ہے وفاقی دارالحکومت کی آبادی آٹھ لاکھ  سے بڑھ کر بیس لاکھ ہوگئی ہے 19سال کے دوران آبادی میں 5.7فیصد اضافہ ہوا مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہوگئی 1998ء میں پاکستان کی مجموعی آبادی 13کروڑ23لاکھ52ہزار 279تھی 1998ء سے 2017ء کے دوران آبادی بڑھنے کی اوسط شرح 4.2فیصد رہی۔چھٹی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ایک سو خواتین کے مقابلے میں 105مرد ہیں پاکستان میں مردوں کی تعداد10کروڑ64لاکھ 49ہزار 322ہے جبکہ خواتین کی تعداد10کروڑ 13لاکھ 14ہزار 780ہے خواجہ سرائوں کی تعداد10ہزار 418ہے دیہات میں 13کروڑ21لاکھ89ہزار 531اور شہروں میں 7کروڑ55لاکھ 84ہزار 989افرادرہائش پذیر ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ  پنجاب اور سندھ میں آبادی بڑھنے  کی شرح میں کمی آئی جبکہ بلوچستان خیبرپختونخواہ اور فاٹا میں آبادی بڑھنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے پنجاب کی آبادی 11کروڑ12ہزار 442جبکہ سالانہ شرح نمو 3.13فیصد ہے سندھ کی آبادی چار کروڑ78لاکھ86ہزار51' خیبرپختونخواہ کی آبادی 3کروڑ5لاکھ 23ہزار 371بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ23لاکھ 44ہزار 408ہے اور فاٹا کی آبادی 50لاکھ ایک ہزار 676ہے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے شہروں میں بسنے والے افراد کی شرح دیہات سے زیادہ ہے سندھ کے شہروں میں 82.52 افراد رہائش پذیر ہیں پنجاب میں 71.36فیصد ' خیبرپختونخواہ میں 77.18 فیصد بلوچستان میں 55.27  فیصد فاٹا میں 84.2فیصد اور اسلام آباد میں 58.50فیصد افراد شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔ مذکورہ اعدادوشمار کئی حوالوں سے دعوت فکر دیتے ہیں اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ آبادی پر قابو پانے کے سلسلے میں حکومت کامیاب نہیں ہوسکی اسے مذہبی حلقوں میں جو تعاون حاصل ہونا چاہیے وہ اسے نہیںمل سکا اس نے اس تعاون کے حصول کے سلسلے میں کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی  دوسرا اہم پہلو آبادی کا شہروں کی طرف رحجان ہے اعدادوشمار یہ واضح کرتے ہیں کہ ہر صوبے اور علاقے میں شہروں پر آبادی کا دبائو زیادہ ہے اور اس کی وجہ شہروں میں نسبتاً سہولتوں کی زیادہ فراہمی ہے لیکن آبادی کے اس دبائو نے شہروں میں مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں وہاں ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں' پانی کی کمی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے' صحت و صفائی کے معاملات بگڑتے چلے گئے ' حکومت کو دیہی علاقوں میں تعلیم' صحت اور روزگار کے شعبوں کو ترقی دینی ہوگی ایسی صورت میں  ہی لوگوں کی نقل مکانی کو روکا جاسکے گا زرعی صنعت کو  دیہی علاقوں میں ترقی دے کر روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں وہ علاقوں میں پولٹری اور مویشی فارمنگ کے شعبوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے لوگوں کو جب دیہی علاقوں میں اپنے گھروں کے قریب روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے تو شہروں کی طرف منتقلی کے رحجان میں کمی واقع ہوگی یہ بھی ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقبہ کو قابل کاشت بنایا جائے ' ہائوسنگ کی صنعت اور شہروں کے پھیلائو کے باعث زرعی رقبہ شدید متاثر ہوا ہے اس تناظر میں زیادہ سے زیادہ رقہ کو زیر کاشت لانے کی ضرورت ہے  ہمیں سبزیوں اور پھلوں کی زیادہ پیداوار کے حصول پر بھی توجہ دینی چاہیے انہیں ہم اپنی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ  شامل کر سکتے ہیں پاکستان میں وسائل اور مطلوبہ ماحول کی کمی نہیں ہے کمی اگر ہے تو منصوبہ بندی کی ہے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ آبادی کے اعدادوشمار کی روشنی میں دیہی معاشرت کو ترقی دینے کے لئے فوری طور پر ٹاسک فورس قائم کرے آبادی کے مذکورہ اعدادوشمار کی روشنی میں ہمیں ابھی سے دیہی اور شہری علاقوں کے لئے جامع منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔