Get Adobe Flash player

قطر' ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے فیصلے

مسلم امہ کے اتحاد کے خواہاں حلقوں کے لئے یہ اطلاعات یقینا خوش آئند ہیں کہ قطر نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے ان حالات میں جبکہ خطے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ قطر کا تنازعہ موجود ہے اس کا ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا فیصلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے  قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قطر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اضافے کا خواہاں ہے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ قطر اپنا سفیر تہران بھیج رہا ہے جہاں وہ پھر سے خدمات سرانجام دیں گے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایرانی وزیر خارجہ اور ان کے قطری ہم منصب کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت کے بعد کیا گیا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق قطری وزیر خارجہ نے اپنا سفارتکار دوبارہ تہران بھیجنے کی  خواہش کا اظہار کیا ہم ان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات ہماری اولین ترجیح ہے ادھر بعض مبصرین کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی جلد بحالی کا بھی امکان ہے غیر ملکی میڈیا نے بھی اشارے دئیے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جلد ہی سفارتی وفود کی آمدورفت ہونے والی ہے ایران کے وزیر خارجہ نے بھی برف پگھلنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ سفارتی وفود کے تبادلوں کے لئے حج کے بعد ویزے جاری کئے جائیں گے ان دنوں  ہم آخری مراحل کی تکمیل میں مصروف ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے سفارتکار اپنے سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں جاسکیں اور ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس جنوری میں سعودی عرب میں ایک مقامی مذہبی رہنما کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے تہران میں واقع سعودی سفارتخانے پر ہلہ بول دیا تھا جس کے فوری بعد سعودی عرب نے ایران میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا' بہرحال ڈیڑھ سال کے بعد دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات کی بحالی ایک اچھی  خبر ہے دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کو ان کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں ایک دوسرے ملک سے تعاون اور تحفظ فراہم ہونا چاہیے' اسلامی ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اسلام دشمن اور مسلم دشمن طاقتیں ان کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کے لئے ہمیشہ کمربستہ رہی ہیں ان کی نظریں مسلم دنیا کے وسائل  پر ہوتی ہیں وہ ان وسائل کو لوٹنے اور مسلم امہ کو سیاسی و معاشی طور پر کمزور کرنے کے لئے مختلف چالیں چلتے ہیں عراق سے لے کر افغانستان تک اس لوٹ کھسوٹ کی بہت سی مثالیں موجود ہیں دانشمندی اور حکمت کا یہی تقاضا ہے کہ قطر اور ایران ہوں یا ایران اور سعودی عرب وہ مسلم امہ کے وسیع تر مفادات کو پیش نظر رکھیں جبکہ ان مفادات کا تحفظ ان کے باہمی اتحاد سے ہی ممکن ہے مسلم امہ کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ان اختلافات کو عداوت اور دشمنی نہیں بننا چاہیے اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا اس بنیادی حقیقت کو پلے باندھ لینا بہت ضروری ہے کہ اسلام کا دشمن مسلم امہ میں اتحاد کے خلاف ہے' وہ مختلف ہاتھوں سے اس اتحاد کو سبوتاژ کرتاہے مسلمان ممالک کو اپنے وجود کی سلامتی اور اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنانا ہوگا۔