جو کچھ بھی ہونا ہے افغانستان میں ہوگا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے انٹرنیشنل نیوز ایجنسی بلوم برگ سے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی افغانستان میں عسکری قوت میں اضافے کی پالیسی کو پہلے دن کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا ہم پہلے ان سے واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے  فوجی طاقت کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دی جائے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو سپورٹ کرتی ہے پاکستان کی سرزمین پر کسی کو افغان جنگ لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ افغانستان ہی میں ہونا چاہیے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے جنگ لڑ رہی ہیں جس کی بدولت پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جاچکا ہے اس جنگ میں 60ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت کو ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو واپس ان کے وطن بھیجنا شروع کر دیا ہے سرحد پار سے جنگجوئوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے جس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغان حکومت کو ہماری مدد اور تعاون کی ضرورت ہے تو ہم اس کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں دہشت گردی کے حوالے سے ہمارا تعاون غیر مشروط ہے۔ وزیراعظم نے غیر مبہم انداز میں پاکستان کی افغان پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزائم بیان کر دئیے ہیں جہاں تک ٹرمپ کی دھمکیوں اور الزامات کا  معاملہ ہے قوم ان الزامات کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہے جبکہ اس کی دھمکیاں پاکستان کے عوام کے لئے نئی نہیں اس کے ڈو مور کے مطالبے نئے نہیں ہیں امریکہ کی طرف سے امداد بند کرنے یا نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرنے کی باتیں پاکستان کے لئے کوئی معانی نہیں رکھتیں نان نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کو  کبھی بھی امریکہ سے دفاع و سلامتی کے شعبوں میں غیر معمولی امداد نہیں ملی۔ جہاں تک معاشی امداد کا معاملہ  ہے ایک دور میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے یہ امداد ملتی رہی ہے لیکن اب معاشی امداد' زراعت' توانائی' صحت اور تعلیم جیسے شعبوں تک محدود ہوگئی ہے سیکورٹی کے شعبہ میں امداد انسداد دہشت گردی ' انسداد منشیات' فوجی تربیت اور فارن ملٹری  پروگرام کے تحت اسلحہ و آلات کی خریداری کے لئے رقم کی فراہمی شامل ہے کولیشن سپورٹ فنڈ کا امداد سے کوئی تعلق نہیں پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن کرتی ہے اس  پر اٹھنے والے اخراجات امریکہ کی طرف سے اس مد میں ادا کئے جاتے ہیں پاکستان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کا معاملہ پہلے ہی بڑی حد تک بند ہوچکا ہے 2016ء میں کانگرس نے پاکستان کو ایف 16کی فراہمی روک دی تھی اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہا ہے اس وقت پائپ لائن میں اے ایچ ون زیڈ وڑپر ہیلی کاپٹر ہیں جو دہشت گردی کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ ہتھیاروں کی فراہمی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اس لئے ہتھیاروں کی ترسیل یا امداد کی بندش کے امور پاکستان کے لئے کسی قسم کے دبائو کا باعث نہیں بن سکتے اس کے برعکس پاکستان کی طرف سے امریکہ کو رسد کی فراہمی کے لئے زمینی اور حقانی حدود کی مفت سہولت ختم کی جاسکتی ہے یقینا حالات اس سطح پر نہیں جائیں گے وہاں دونوں ممالک مختلف شعبوں میں عدم تعاون کی انتہائی سطح پر پہنچ جائیں  تاہم مسائل کو حقائق کی بنیاد پر ہی حل کیا جاسکتا ہے دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پر نہیں افغانستان میں امن عمل کے  ذریعے قیام امن کی خواہش کے تناظر میں خطے کے اہم ممالک یک زبان ہیں جبکہ افغانستان میں طاقت کے استعمال سے مطلوبہ نتائج کی توقع عبث ہے اس کے باوجود اگر امریکہ ایک بار پھر شوق آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن یہ جنگ اب  ہر صورت افغانستان ہی میں لڑنی ہوگی کوئی دوسرا اس کے لئے افغانستان کی دلدل میں داخل نہیں ہوگا۔