Get Adobe Flash player

ایک طرف خواتین کے حقوق کا دعویٰ دوسری طرف مراکز بند کرنے کا فیصلہ

سپریم کورٹ مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے خیبرپختونخواہ حکومت کی پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور سوات' ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں واقع مصیبت زدہ خواتین کی امداد' بحالی اور تحفظ کے لئے قائم کئے گئے کرائسزسینٹر بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود پر مشتمل تین رکنی بنچ نے صوبائی حکومت کی دونوں اپیلیں خارج کر دیں اور چاروں کرائسز سنٹر بحال کر دئیے جسٹس دوست محمد خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خواتین کے کرائسز سنٹر کو بند کرنا خیبرپختونخواہ حکومت کی گورننس کی بدترین مثال ہے خواتین کو غلام بنانے کی بجائے انہیں بااختیار بنانا ہوگا۔ 50فیصد آبادی کے لئے قائم مراکز کو بند کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خواتین کو ترقی دینے اور ان کی بہبود کے نام پر ان سے ووٹ لئے تھے کیا حکومت خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنا چاہتی ہے تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں اور عوام کو باشعور بنانے کا وعدہ کیا تھا جسٹس دوست محمد خان نے مزید کہا کہ حکومت نے عالمی معاہدوں پر دستخط کئے ہوئے ہیں اور انہی معاہدوں کی بدولت سالانہ کروڑوں ڈالر وصول کئے جاتے ہیں اگر خواتین کو بااختیار نہیں بنانا تو پہلے ان معاہدوں سے باہر آئیں حکومت کو چاہیے کہ خواتین کو مزید بااختیار بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ تحریک انصاف جو اپنے روشن خیال ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور خواتین کے حقوق کی دعویدار ہے اپنے صوبے میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر رہی ہے سماعت کے دوران صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ فنڈز کی کمی ہے اس لئے صوبائی حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ان مراکز کو چلا سکے عدالت نے قرار دیا کہ کے پی کے حکومت ایک طرف خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہے دوسری طرف انہیں اس سے محروم رکھا جارہا ہے عدالت نے صوبائی حکومت کی طرف سے فنڈز کی عدم دستیابی کے عذر کو تسلیم نہیں کیا۔ ہماری دانست میں مسئلہ فنڈز کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے اگر خیبرپختونخواہ حکومت کی ترجیحات میں یہ شامل ہوتا کہ مصیبت زدہ خواتین کی امداد کرنی ہے تو کسی نہ کسی مد میں سے وسائل نکالے جاسکتے تھے اس کے برعکس جس طرح اس نے چاروں مراکز بند کرنے کا فیصلہ کیا اس سے اس کی ترقی پسندی اور روشن خیالی بے نقاب ہوچکی ہے اس سے زیادہ مضحکہ خیز پہلو اور کیا ہوسکتا ہے کہ جلسوں پر آئے روز کروڑوں روپے خرچ کرنے والی پی ٹی آئی حکومت کے پاس خواتین کی بحالی کے چار مراکز کے لئے فنڈز نہیں ہیں؟