Get Adobe Flash player

ایٹمی پھیلائو کی کہانی' اس بحث کو ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہیے

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں ایٹمی پھیلائو کے حوالے سے ایک بار پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں اور کہا ہے کہ انہیں جب سی آئی اے کے سربراہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جوہری پھیلائو کے دستاویزی ثبوت دکھائے تو انہیں شدید جھٹکا لگا اس کے بعد جب انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنے دفتر بلایا اور ساری باتیں بتائیں تو وہ آنسوئوں سے رونا شروع ہوگئے انہوں نے میرے گھٹنوں کو پکڑ لیا اور معافی مانگی سابق صدر کے مطابق ڈاکٹر قدیر کا سری لنکن فرنٹ مین  ڈبل ایجنٹ بنا ہوا تھا یہ پریذینٹیش میں نے سب سے پہلے نواز شریف کو دی تھی انہوں نے کہا کہ صدر بش نے مجھ سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو نہیں مانگا تھا لیکن ان کی نظر میں وہ انٹرنیشنل کرمنل تھا سابق صدر نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو کسٹوڈین کنٹرول میں لینا پروگرام کی آرمی سٹریٹجک کمانڈ بنانا یہ سب باتیں میں نے جی ایچ کیو میں نواز شریف کے سامنے رکھیں ڈاکٹر قدیر خان نے کہاکہ مجھے دبئی جانا ہے میں نے کہا کہ جائیں بعد میں معلوم ہوا  وہ سوڈان بھی چلے گئے امریکہ نے ہمیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دستخط شدہ ثبوت فراہم کئے تھے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان کی ڈیل کے ثبوت موجود ہیں لیکن پیسے لینے کے ثبوت نہیں ہیں ڈاکٹر قدیر کی سیکورٹی ان کی اپنی تھی جس کے بارے میں کبھی نہیں پوچھا گیا ڈاکٹر عبدالقدیر  کی معافی کے بعد میں نے انہیں کہا کہ کیمرے کے سامنے یہی باتیں کہہ دیں جو مجھے کہی ہیں اس پر کوئی پریشر نہ تھا وہ تو گھنٹوں کو  ہاتھ لگا اور رو رہا تھا پرویز مشرف نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر قدیر  کو بچایا تھا اور انہیں ان کے گھر میں حفاظت سے رکھوایا تھا دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرویز مشرف کے موقف کو لغو' جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا کہ میرے بارے میں پرویز مشرف نے امریکیوں سے سودے بازی کرلی تھی اس نے مجھے گھر میں قید اس لئے رکھا تھا کہ سی آئی اے کے سپرد کر دے پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیراعظم ظفر اللہ جمالی سے کہا تھا کہ سی آئی اے کا طیارہ آیا ہوا ہے ڈاکٹر قدیر کو ان کے حوالے کر دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کر دیاتھا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا ملک کے لئے کیا انہیں کسی سے انعام نہیں چاہیے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے ڈاکٹر خان پر الزامات کے حوالے سے کوئی بھی تیسری شخصیت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہین ہے یہ ہماری قومی تاریخ کا شرمناک باب ہے یہ ایسا معاملہ ہے کہ اس کی تحقیقات بھی ملک و قوم کے لئے شدید نقصان کا باعث ہوگی اور پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی مخالفت میں بہت کچھ کہنے کا موقع مل جائے گا کاش قوم کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر یہ الزامات نہ لگتے اور وہ اس تناظر میں اعترافات بھی نہ کرتے ان کے اعتراف اور قوم سے معافی کے بعد اب اس باب میں مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی' عام طور پر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یورنیم کو افزدہ کرنے والی مشین ''سینٹری فیوجز'' بہت بڑی مشین ہے سوئی نہیں کہ اسے آسانی سے اسمگل کر دیا جائے' مگر یہاں سینٹری فیوجز کی منتقلی کا سوال نہیں ہے مسئلہ ڈیزائن اور افزدوگی کے طریقہ کار کا ہے جو ظاہر ہے تجربہ کار سائنسدان کے دماغ میں محفوظ ہوتا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر ایٹمی راز چوری کرنے کے الزامات پر ہالینڈ میں مقدمہ قائم ہوا تھا اور ان کی غیر موجودگی میں انہیں سزا سنائی گئی تھی جس پر حکومت کی جانب سے اپیل کی گئی اور اپیل کے نتیجے میں وہ بری ہوگئے تھے پس منظر یہ تھا کہ ڈاکٹر خان نے ہالینڈ میں یورنیم افزدوگی پر کام کیا تھا انہیں کوئی راز چرانے کی ضرورت بھی نہ تھی سب کچھ ان کے ذہن میں محفوظ تھا مگر ہالینڈ کی حکومت نے امریکی خوشنودی کی خاطر ان کے خلاف مقدمہ قائم کر دیا تھا ہم سمجھتے ہیں  سابق صدر کو ایٹمی پھیلائو کے اس معاملے کو پھر سے اچھالنے کی ضرورت نہ تھی اس کو پھر سے زیر بحث لانا اور اسے اچھالنا پاکستان کے دشمنوں کے مقاصد تو ہوسکتے ہیں محب وطن پاکستانیوں کے نہیں ہونے چاہئیں۔