Get Adobe Flash player

مردم شماری پر سندھ حکومت کے بے بنیاد الزامات

مردم  شماری کے اعدادوشمار منظر عام پر آنے کے بعد اگرچہ بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے اعتراضات سامنے آئے ہیں تاہم سندھ حکومت کا ردعمل سب سے زیادہ شدید ہے سندھ حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت نے سندھ کی آبادی کو کم ظاہر کرکے اس کے خلاف سازش کی ہے چنانچہ وہ ان اعدادوشمار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اس کا موقف ہے کہ مردم شماری کے معاملے پر وہ کل جماعتی کانفرنس طلب کرے گی' پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت سندھ کی آبادی کو کم ظاہر کیا ہے وفاقی حکومت کا یہ عمل سندھ کے خلاف سازش ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں سندھ کا حصہ نہ بڑھانے کے لئے مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم ظاہر کی گئی تاکہ سندھ کا قابل تقسیم پول میں حصہ نہ بڑھ سکے سندھ حکومت کو مردم شماری کے دوران ہی خدشات ظاہر ہوگئے تھے مگر وفاقی حکومت نے اس کے خدشات ختم نہیں کئے نثار کھوڑو کے مطابق سندھ کا مطالبہ تھا کہ گھر شماری ہونے سے رہ نہ جائے مگر وفاقی حکومت نے سندھ کے خدشات پر کان نہ دھرا اور لمبے عرصے تک مردم شماری کے نتائج راز میں رکھے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرکے اے پی سی بلائی جائے گی ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے بھی مردم شماری کے عبوری اعدادوشمار کو  مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے اعلان کے مطابق 10ستمبر کو لیاقت آباد سے ادارہ شماریات کے دفتر تک ریلی نکالی جائے گی۔ وفاقی حکومت نے مردم شماری پر سندھ کے اعتراضات مسترد کر دئیے ہیں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ مردم شماری کا عمل پورے ملک میں شفافیت سے دو مراحل میں مکمل کیا گیا کچھ علاقوں میں مشکلات بھی پیش آئیں مگر وہاں دوبارہ شفاف طریقے سے یہ عمل مکمل کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے اپنے موقف کو درست طور پر واضح کیا  مردم شماری کے عمل میں پاک فون نے نگرانی کی اور ہر مرحلے میں شفافیت کو ملحوظ رکھا اس لئے ہم نہیں سمجھتے کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی کسی منصوبہ بندی  یا بدنیتی کا عمل دخل ہے البتہ یہ تاثر واضح طور پر موجود ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مردم شماری کے نتائج کی آڑ میں وفاقی حکومت پر دبائو ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ہر معاملے کو سیاسی لیور  کے طور پر استعمال کرنے کی روش احسن نہیں فوج کی نگرانی میں ہونے والی مردم شماری کی شفافیت پر شبے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے بے بنیاد الزام تراشی سے کسی بھی جماعت کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔