Get Adobe Flash player

پارلیمنٹ کی سفارشات کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے

صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان پالیسی کے اعلان کے موقع پر جس قسم کا لب و لہجہ اختیار کیا اس کے ردعمل میں ایوان بالا نے پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں سفارشات منظور کی ہیں سینٹ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اضافی عسکری تنائو سے متعلق کردار نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کو غیر مستحکم کرے گا جس کے منفی اثرات یورپ پر بھی مرتب ہوں گے سینٹ نے افغانستان اور امریکہ کی طرف سے الزامات کے کھیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کی نفی کی ہے کسی امریکی عہدیدار اور حکومتی نمائندے کو شیڈول کے بغیر پاکستان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ سینٹ نے کہا ہے کہ حکومت واضح موقف اپنائے کہ کسی جانبدار  پروپیگنڈے یا بیانات سے پاکستان متاثر ہوگا نہ اسے دبایا جاسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقد امریکی سینیٹرز اور ارکان کانگرس سے پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے قومی رابطوں کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ سینٹ نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا جائے انہیں پاک امریکہ تعلقات پر پارلیمنٹ کی کارروائی سے آگاہ کیا جائے سینٹ نے آج تک دی جانے والی امریکی امداد' کولیشن سپورٹ فنڈ اور پاکستانی کو اخراجات کی واپسی سے متعلق حقائق نامہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے سینٹ نے یہ رائے بھی دی ہے کہ امریکی صدر کے الزامات اور دھمکیوں کے مسئلے پر پاکستان اپنا نقطہ نظر نہ صرف اپنے اتحادیوں بلکہ امریکہ کے اتحادیوں تک پہنچائے۔ سینٹ کی مذکورہ سفارشات کی روشنی میں حکومت کو مطلوبہ اقدامات فوری طور پر بروئے کار لانے چاہئیں حکومت نے 5ستمبر کو سفیروں کی کانفرنس بلانے کا درست فیصلہ کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب تک حکومت نے بہت سے درست اقدامات اٹھائے ہیں لیکن تعجب کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت امریکی امداد کے حوالے سے کسی قسم کی فیکٹ شیٹ پیش نہیں کر سکی حالانکہ بار بار  امریکہ کی طرف سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دی گئی مگر اس نے اس کے مقابلے میں ''بہتر کارکردگی'' کا مظاہرہ نہ کیا گویا ہمیشہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کو جو رقم بھی دی گئی وہ دہشت گردی کے خلاف کارکردگی دکھانے سے مشروط تھی مگر اس کی رطف سے مطلوبہ ذمہ داری پوری نہ کی گئی۔ صورتحال کا یہ تقاضا تھا کہ اس حوالے سے فوری طور پر  نہ صرف قوم بلکہ عالمی برادری کے سامنے تمام حقائق رکھ دئیے جاتے مگر ہنوز اس باب میں خاموشی ہے اگرچہ حکومت کی طرف سے قدرے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کسی قسم کی امداد نہیں ہے بلکہ اس فنڈز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں پر اسے اس کے اخراجات ادا کئے جاتے ہیں مگر یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں تمام اعدادوشمار پیش  کئے جائیں کہ اب تک ہمارا مطالبہ کیا رہا ہے اور ہمیں مذکورہ فنڈز میں سے کتنی ادائیگی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اگر امریکہ کی طرف سے افغانستان میں لشکر کشی اور کارروائی شروع ہونے کے بعد کسی قسم کی ادائیگی کی گئی ہے تو اس کی تفصیلات قوم پر واضح ہونی چاہئیں دہشت گردی کے باعث پاکستان کی معیشت کو جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اس کے تمام حقائق بھی دنیا کے سامنے رکھے جانے چاہئیں ہم محسوس کرتے ہیں اس تناظر میں حقائق نامہ فوری طورپر عالمی برادری اور قوم کے سامنے آنا چاہیے افغانستان میں رسد کی فراہمی کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے امریکہ کو جو زمینی اور فضائی سہولتیں دی گئیں اور جو اب بھی موجود ہیں ان کی کیا نوعیت ہے کیاان کے عوض ہمیں کسی قسم کی ادائیگی کی گئی یا مذکورہ سہولتیں ہم نے مفت فراہم کی ہیں اس بارے میں بھی صورتحال واضح ہونی چاہیے قومی اسمبلی کی قرارداد میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ یہ سہولتیں ختم کرنے  پر غور کیا جائے موقع کی مناسبت سے ہم حکومت کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ وزیر خارجہ کے روس اور چین سمیت دیگر دوست ممالک کے دورے اور مشاورت کے عمل میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے سفیروں کی کانفرنس سے قبل ہنگامی طور پر ایک دو دنوں میں یہ مرحلہ انجام دیا جاسکتا ہے اس موقع پر وزارت خارجہ کو غیر معمولی فعالیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔